شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالمصطفٰے اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اسلامی مسائل و خصائل کے خزانے پر مشتمل اپنی شہرۂ آفاق کتاب جنتی زیور میں فرماتے ہیں: ہر مرید پر لازم ہے کہ دوسرے بزرگوں یا دوسرے سلسلہ کی شان میں ہرگز ہرگز کبھی کوئی گستاخی اور بے اَدَبی نہ کرے، نہ کسی دوسرے پیر کے مریدوں کے سامنے کبھی یہ کہے کہ میرا پیر تمہارے پیر سے اچھا ہے یا ہمارا سلسلہ تمہارے سلسلہ سے بہتر ہے، نہ یہ کہے کہ ہمارے پیر کے مرید تمہارے پیر سے زیادہ ہیں یا ہمارے پیر کا خاندان تمہارے پیر کے خاندان سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ کیونکہ اس قسم کی فضول باتوں سے دل میں اندھیرا پیدا ہوتا ہے اور فخر و غرو رکا شیطان سر پر سوار ہو کر مرید کو جہنم کے گڑھے میں گرا دیتا ہے اور پیروں و مریدوں کے درمیان نفاق و شقاق، پارٹی بندی اور قسم قسم کے جھگڑوں کا اور فتنہ و فساد کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ (جنتی زیور، ص۴۶۴)
پیر پر اعتراض کا چھٹا سبب
بعض اوقات پیر کے بتائے ہوئے وظیفہ یا ذکر کی وجہ سے مرید کے قلب کی کیفیت نہیں بدلتی تو وہ اپنے پیر سے بد ظن ہونے لگتا ہے، لہٰذا ایسے مریدوں کو نصیحت کرتے ہوئے شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفٰے اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں:اگر پیر کے بتائے ہوئے وظیفہ یا ذکر کا