Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
38 - 55
نے ارشاد فرمایا:آدمی کا اپنے والدین کو گالیاں دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ عرض کی گئی :کیا کوئی شخص اپنے والدین کو بھی گالیاں دے سکتا ہے؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ہاں! جب آدمی کسی شخص کے والدین کو گالیاں دیتا ہے تو وہ جواب میں اس کے والدین کو گالیاں دیتاہے۔ 
(صحیح مسلم، کتاب الایمان ، با ب الکبائرواکبرھا، الحدیث:۲۶۳،ص۶۹۳)
دوسروں کے پیروں پر بھی اعتراض نہ کیجئے
جب کوئی مرید اپنے پیر کی محبت میں کسی دوسرے پیر کے مرید سے کسی بات پر الجھ کر اس کے پیر پر بے جا اعتراضات کرتا ہے تو وہ مرید اپنے پیر کی محبت میں اسے نیچا دکھانے کی کوشش میں اس کے پیر پر بے جا اعتراضات کرنے لگتا ہے اور یوں مشائخ عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کی شان میں گستاخی و بے ادبی کا دروازہ کھل جاتا ہے جس کا سبب وہ شخص بنتاہے جو کسی صورت میں درست نہیں کیونکہ جس طرح اس کا پیر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ    کا ایک برگزیدہ بندہ ہے اسی طرح دوسرے مشائخ بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے نیک بندے ہیں لہٰذا ان میں سے کسی کو برا بھلا کہنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی دشمنی مول لینا ہے۔ جیسا کہ حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  نے فرمایا کہ جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے کسی ولی سے دشمنی کی اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   سے اعلانِ جنگ کیا۔ 
(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب من ترجی لہ السلامۃ من الفتن ، الحدیث:۳۹۸۹، ج۴، ص۳۵۱)