سامنے ایک نہر جاری تھی ،یہ دونوں صاحب نہانے کے واسطے وہاں گئے، کپڑے اتار کر کنارے پر رکھ دیئے اور نہانے لگے۔ اِتنے میں ایک نہایت مہیب(یعنی خوفناک) شیر آیا اور سب کپڑے جمع کرکے ان پر بیٹھ گیا۔یہ دونوں صاحب ذرا ذرا سی لنگوٹیاں باندھے ہوئے ،اب نکلیں تو کیسے؟ علما کی شان کے بالکل خلاف۔ جب بہت دیر ہوگئی(تو) حضرت نے فرمایا کہ بھائیو! ہمارے دو مہمان سویرے آئے تھے ،وہ کہاں گئے؟کسی نے کہا:حضور!وہ تو اِس مشکل میں ہیں۔ تشریف لے گئے اور شیر کا کان پکڑ کر ایک طمانچہ مارا اُس نے دوسری طرف منہ پھیر لیا،آپ نے اُس طرف مارا اُس نے اِس طرف منہ پھیر لیا۔ فرمایا :ہم نے نہیں کہا تھا کہ ہمارے مہمانوں کو نہ ستانا ،جا چلا جا! شیر اٹھ کر چلا گیا۔ پھر ان صاحبوں سے فرمایا: تم نے زبانیں سیدھی کی ہیں اور ہم نے قلب سیدھا کیا ۔یہ اُن کے خطرے کا جواب تھا۔
(رسالہ قشیریہ ،باب کرامات الاولیاء،ص۳۸۷،ملخصًّا)
پیر پر اعتراض کا پانچواں سبب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض اوقات مرید اپنے پیر کی محبت میں اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ خود اپنے ہی پیر پر اعتراض کا سبب بن جاتے ہیں۔جیسا کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم