Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
35 - 55
اسے اپنا مقرب بنا لیا اور اسے ملک روم کے بادشاہ کی طرف بھیجا ۔پس جب شاہِ روم نے اس کی کئی علوم میں مہارت اور فصاحت وبلاغت دیکھی تو بڑا حیران اور متعجب ہوا۔چنانچہ بادشاہ نے اس کے ساتھ مناظرہ کے لئے عیسائیوں کے بڑے بڑے اہلِ علم اور پادریوں کو جمع کیا۔ انہوں نے ابن سقا سے مناظرہ کیا تواس نے تمام کوعاجزو بے بس کر دیا۔ یوں اسے شاہِ روم کے دربارمیں بہت عزت وپزیرائی حاصل ہوئی ۔ پھر ایک دن اس کی نظربادشاہ کی لڑکی پر پڑی تو وہ اس پر فریفتہ ہو گیا اور بادشاہ سے درخواست کی کہ’’ آپ اپنی لڑکی کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔‘‘بادشاہ نے کہا:’’ اگر تم عیسائی مذہب اختیار کر لو تو نکاح کر دوں گا۔‘‘ (نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ ذَالِک)ابن سقا نے عیسائی مذہب قبول کر لیا اور بادشاہ نے اپنی لڑکی کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا۔ اس وقت ابن سقاکو اس غوث رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی بات یاد آئی تواس نے جان لیا کہ یہ مصیبت اسی بے اَدَبی کے سَبَب ہے ۔اور میرا(یعنی اس حِکایت کے راوی کا) حال یہ ہواکہ میں دمشق چلا آیا۔ جہاں سلطان نورُ الدین ملک شہید نے مجھے بلاکر اوقاف کی وزارت قبول کرنے پر مجبور کیا تو میں نے وزارت قبول کرلی اور میرے پاس دنیا (یعنی مال ودولت) اس قدر زیادہ آئی کہ میں نے محسوس کیا دنیامیرے کانوں کی لوتک پہنچ گئی ہے۔ اور اس طرح ان غوث رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کاکلام ہم تینوں کے بارے میں