Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
34 - 55
کیا ہے۔ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ بغدادشریف میں منبرپربیٹھے لوگوں سے فرمارہے ہیں:  قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللہ  یعنی میرایہ قدم ہرولی کی گردن پرہے۔ اور میں آپ کے زمانے کے اولیائے عظام کو بھی دیکھ رہاہوں کہ انہوں نے آپ کی تعظیم کی خاطر اپنی گردنوں کو جھکا دیا ہے۔ یہ فرماکروہ بزرگ اسی وقت غائب ہو گئے۔ اس کے بعد ہم نے انہیں نہ دیکھا۔
حضرت سیِّدُناابو سعید عبد اللہ شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُناشیخ عبد القادر جیلانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کا حال یہ ہوا کہ بارگاہِ الٰہی  میں جو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کاقرب تھا اس کی نشانی وعلامت ظاہرہوئی اور عوام وخواص (یعنی مشائخ ،اولیا،علمااورعام لوگ) آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی بارگاہ سے فیض یاب ہونے لگے اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے یہ اعلان بھی فرمایا: قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللہ یعنی میرایہ قدم ہرولی کی گردن پرہے۔ اور زمانے کے تمام اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  نے  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی اس فضیلت کااقرارکیا۔ اور ابنِ سقا کا حال یہ ہوا کہ علومِ شرعیہ کے حصول میں لگارہا یہاں تک کہ ان ظاہری علوم میں بے انتہا ماہر ہو گیا اور اپنے زمانے کے بہت سے ماہرین پر فائق ہو گیا، وہ غضب کافصیح وبلیغ تھاکہ ہرعلم میں اپنے مدمقابل مناظر کو زیر کر لیتا تھا۔ جب اس کی بہت زیادہ شہرت ہوئی توبادشاہِ وقت نے