گے۔‘‘ میں نے کہا کہ ’’میں بھی ایک مسئلہ پوچھوں گا، دیکھوں گا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔‘‘تو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی نے کہا :’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ! میں توان سے کوئی سوال نہیں کروں گابلکہ ان کی بارگاہ میں حاضر ہوکران کی زیارت کی برکتیں لوٹوں گا۔‘‘
پس جب ہم وہاں پہنچے تو انہیں اپنی جگہ موجودنہ پایا۔ابھی ہم کچھ دیرہی ٹھہرے تھے تو کیا دیکھا کہ وہ وہیں تشریف فرما ہیں۔پھر انہوں نے ابن ِسقا کی طرف غصہ سے دیکھ کر فرمایا: ’’اے ابنِ سقا! تیری ہلاکت ہو! تو مجھ سے ایسا مسئلہ پوچھنے آیا ہے جس کا مجھے جواب نہیں آئے گا۔ سُن ! وہ مسئلہ یہ ہے اور اس کا جواب یہ ہے ۔بے شک میں تیرے اندرکفرکی آگ بھڑکتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔‘‘ پھر انہوں نے میری طرف دیکھ کرفرمایا:’’ اے عبداللہ! تم مجھ سے ایسا مسئلہ پوچھنے آئے ہو تاکہ دیکھو کہ میں اس کا کیا جواب دیتا ہوں۔سنو! وہ مسئلہ یہ ہے اور اس کا جواب یہ ہے۔اور تمہاری بے ادبی کی وجہ سے دنیا تمہارے کانوں کی لو تک پہنچے گی۔‘‘ پھرحضرت سیِّدُناشیخ عبدالقادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی کی طرف نظر فرمائی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کو اپنے قریب کر لیا اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی تعظیم وتکریم کی اور ارشاد فرمایا: اے عبدالقادر! آپ نے اپنے ادب سے اللہ ورسول عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو راضی کیا