Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
32 - 55
اعتراضات کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسوں کی آخرت تو بربادہوتی ہی ہے مگر بسااوقات انہیں دنیا میں بھی نشانِ عبرت بنادیا جاتا ہے ۔ اس ضمن میں ایک عبرت انگیز حکایت پیشِ خدمت ہے۔ 
بااَدَب بانصیب ،بے اَدَب بے نصیب
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 146صَفحات پر مشتمل کتاب فیضانِ مزاراتِ اولیا کے صفحہ66پر ہے،حضرت سیِّدُناابو سعید عبد اللہ محمد بن ھبۃُ اللہ تمیمی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی بیان فرماتے ہیں کہ میں بھری جوانی میں علم دین کے حصول کے لئے بغدادشریف حاضر ہوا۔ ان دنوں مدرسہ نظامیہ میں ابن سقا میرا رفیق وہم سبق تھا۔ ہماری یہ عادت تھی کہ عبادت کے ساتھ ساتھ صالحین کی زیارت کرنے بھی جایا کرتے تھے۔ انہی ایام کی بات ہے بغدادِ معلی میں غوث نام سے مشہور ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ رہاکرتے تھے ۔ ان کی نسبت کہا جاتا تھا کہ وہ جب چاہتے ہیں ظاہر ہو جاتے ہیں اور جب چاہتے ہیں غائب ہو جاتے ہیں۔ ایک دن میں ، ابن سقا اور حضرت سیِّدُنا شیخ عبدالقادر جیلانی (غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم ) جو کہ ان دِنوں جوان تھے، ان بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی زیارت کے ارادے سے نکلے ۔راستے میں ابن سقا کہنے لگاکہ’’ میں ان سے ایسا مسئلہ پوچھوں گا جس کا وہ جواب نہ دے سکیں