شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:کیا وجہ ہے کہ مرید عالم فاضل اور صاحبِ شَرِیْعَتَ و طریقت ہونے کے باوُجود(اپنے مرشِد کامل کے فیض سے ) دامن نہیں بھر پاتا؟ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس سے فارغ اکثر علمائے دین اپنے آپ کو پیرو مرشِد سے افضَل سمجھتے ہیں یا عمل کا غُرور اور کچھ ہونے کی سمجھ کہیں کا نہیں رہنے دیتی۔ وگرنہ حضرت شَیخ سعدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کا مشورہ سنیں۔چنانچہ حضرت شیخ سعدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں: لینے والے کو چاہئے کہ جب کسی چیز کے حاصل کرنے کا ارادہ کرے تو اگرچہ کمالات سے بھرا ہوا ہو مگر کمالات کو دروازے پر ہی چھوڑ دے (یعنی عاجزی اختیار کرے)اور یہ جانے کہ میں کچھ جانتا ہی نہیں۔ خالی ہو کر آئےگا تو کچھ پائے گا اور جو اپنے آپ کو بھرا ہوا سمجھے گا تو یاد رہے کہ بھرے برتن میں کوئی اور چیز نہیں ڈالی جاسکتی ۔ (انوار رضا ، امام احمد رضا اور تعلیمات تصو ف ، ص۲۴۲)
علم کی آفت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بد قسمتی سے بعض لوگ اس خوش فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر کوئی دوسرا نہیں۔دراصل ایسے لوگ غرور و تکبر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ آفَۃُ الْعِلْمِ الْخَیْلَاءُ یعنی علم کی آفت تکَبُّر ہے۔اور پھر یہ لوگ اپنے علم پر ناز کرتے ہوئے مشائخ عظام پر بے جا تنقید اور