لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیۡہِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ بیشک تمہارے لئے ان میں اچھی پیروی تھی
(پ۲۸،الممتحنة:۶)
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیۡ رَسُوۡلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ ترجمۂ کنزالایمان:بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔
(پ۲۱،الاحزاب:۲۱)
پس ہم رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تمام اَفعال کی پیروی کریں گے سوائے ان اَفعال کے جو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ خاص ہیں۔ ہمیں ان پر عمل کرنا جائز نہیں اور جان لیجئے!یہ بات (کہ جوفعل کسی کے ساتھ خاص ہوغیرکواس پرعمل جائز نہیں)اس بیماری کے لئے سب سے بڑی دوا ہے جو مرید کو شیطان کی طرف سے لگتی ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ خبیث نفس جب شیخ کواس قسم کے القا پرعمل کرتا دیکھتا ہے تو فوراً اس پر عمل کرتا ہے (حالانکہ وہ شیخ کے ساتھ خاص ہے) اور نفس طبعی طور پر کسی کا محکوم بن کر نہیں رہنا چاہتا۔پس جب شیطان شیخ کے بارے میں کوئی گھٹیا خیال دل میں ڈالتا ہے تو اپنی ہلاکت کے لئے اسے قبول کر لیتاہے سوائے یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (اصلاحِ اعمال، ج۱، ص ۵۹۹)
پیر پر اعتراض کا چوتھا سبب
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا