Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
29 - 55
ہی ہے۔ لیکن اگر اسے پیر کا کوئی فعل بظاہر غلط معلوم ہو اور دل میں خیال کرے کہ پیر صاحب غلطی پر ہیں تو ایسا شخص پل بھر میں سر کے بل گر جاتا ہے اور اپنے دعویٔ ارادت میں جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ 
(الابریز، الباب الخامس فی ذکر التشایخ و الارادۃ، الجزء الثانی، ص ۷۷)
پیر معصوم نہیں
حضرتِ سیِّدُنا ابو یزید بسطامی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی سے عرض کی گئی : کیا عارف گناہ کرسکتاہے ؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کا کام مقرر تقدیر ہے ۔ لہٰذا مرید کو چاہئے کہ وہ شیخ کی صحبت اختیار کرتے وقت اسے گناہوں سے معصوم نہ سمجھے(کہ یہ انبیاء وملائکہ عَلَیْہِمُ السَّلَام  کا خاصہ ہے) بلکہ محض اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے راستے کاعلم حاصل کرنے کے لئے صحبت اختیار کرے اور اسکے اَقوال و اَحکام میں نظر کرے نہ کہ اسکے افعال میں اور اسی لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   نے یہ حکم تو ارشاد فرمایا : فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ(پ۱۴، النحل:۴۳) ترجمۂ کنزالایمان:تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو۔ مگر ہمیں یہ حکم نہیں فرمایا کہ ان کے افعال کی پیروی کرو کیونکہ وہ گناہوں سے معصوم نہیں اور چونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے حضرات انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام  کو گناہوں سے معصوم بنایا ہے ، اس لئے ان کے تعلق سے ارشاد فرماتا ہے: