البتہ اگر پیر بدعقیدہ ہو جائے یا کسی گناہ کبیرہ پر اڑا رہے تو پھر مریدی توڑ دے کیونکہ بدعقیدہ اور فاسق معلن کو اپنا پیر بنانا حرام ہے۔ (جنتی زیور، ص ۴۶۲)
خلاف سنّت بات دیکھ کر شیخ سے پھرنا کیسا؟
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 561 صَفحات پر مشتمل کتاب الملفوظ المعروف بہ ملفوظات اعلیٰ حضرت (مکمل چار حصے) صَفْحَہ 498 پر ہے کہ جب اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کی خدمت میں عرض کی گئی کہ شیخ(یعنی اپنے پیر) سے بظاہر کوئی ایسی بات معلوم ہو جو خلافِ سنت ہے تو اس سے پھرنا کیسا ؟تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا: محرومی اور انتہائی گمراہی ہے۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص ۴۹۸)
حافظ الحدیث سیدی احمد سِجِلماسی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ (متوفی ۱۱۵۵ھ) اَلْاِبْرِیْز میں اپنے شیخ کریم حضرت سیدنا عبد العزیز بن مسعود دباغ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ (متوفی ۱۱۳۲ھ) کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ مرید کی اپنے پیر سے سچی محبت کی علامت یہ ہے کہ مرید اپنے پیر کو عقل کے ترازو میں تولنا چھوڑ دے یہاں تک کہ اسے اپنے پیر کے تمام افعال، اقوال اور احوال بالکل درست دکھائی دیتے ہوں، اگر کوئی بات سمجھ میں آجائے تو ٹھیک، ورنہ اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد کر دے مگر اس بات کا یقین رکھے کہ پیر کا عمل درست