چاہئے کہ یہ مریدوں کے لئے زہر قاتل ہے۔ کم کوئی مرید ہوگا جو اپنے دل میں شیخ پر کوئی اعتراض کرے پھر فلاح پائے۔ شیخ کے تصرفات سے جو کچھ اسے صحیح نہ معلوم ہوتے ہوں ان میں حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حضرت سیدنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام کےساتھ پیش آنے والے واقعات یاد کرلے کیونکہ حضرت سیدنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام سے وہ باتیں صادر ہوتی تھیں بظاہر جن پر سخت اعتراض تھا (جیسے مسکینوں کی کشتی میں سوراخ کردینا، بچے کو قتل کردینا) پھر جب وہ اس کی وجہ بتاتے تھے ظاہر ہوجاتا تھاکہ حق یہی تھا جو انہوں نے کیا۔ یونہی مریدکو یقین رکھنا چاہئے کہ شیخ کا جو فعل مجھے صحیح معلوم نہیں ہوتا شیخ کے پاس اس کی صحت پر دلیل قطعی ہے۔
(عوارف المعارف، الباب الثانی عشر فی شرح خرقۃ المشائخ، ص۶۲)
پیر بھی آخر انسان ہے
شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفٰے اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:اگر پیر میں کوئی ہلکی سی خلافِ شریعت بات کبھی دیکھ لے تو فوراً اعتقاد خراب نہ کرے اور یہ سمجھ لے کہ پیر بھی آدمی ہی ہے کوئی فرشتہ تو ہے نہیں، اس لئے اگر اس سے اتفاقیہ کوئی معمولی سی خلافِ شرع بات ہوگئی ہے جو توبہ کر لینے سے معاف ہوسکتی ہے تو ایسی بات پر بدظن ہو کر پیر کو نہ چھوڑے ہاں