اندر خاص لوگوں کا مجمع ہے، اَکھاڑے میں کشتی ہورہی ہے، حضرت بھی تشریف فرما ہیں اور کشتی میں شریک ہیں۔ حضرت خواجہ نقشبند رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ پابندِ شریعت عالم جلیل تھے، آپ کو یہ بات کچھ ناگوار گزری حالانکہ کوئی ناجائز بات نہ تھی۔دل میں اس خیال و سوسہ کا آنا تھا کہ فوراً غنودگی چھا گئی، دیکھا کہ معرکۂ حشر بپا ہے، ان کے اور جنت کے درمیان ایک دلدل حائل ہے۔یہ اس پار جانے کے لیے دلدل میں اترے مگر پھنس گئے، اب جتنا زور کرتے دھنستے جاتے، یہاں تک کہ بغلوں تک دھنس گئے، اب نہایت پریشان کہ کیا کیا جائے، اتنے میں دیکھا کہ حضرت امیر کلال رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ تشریف لائے اور ایک ہاتھ سے نکال کر دریا کے اس پار کردیا۔ اتنے میں آپ کی آنکھ کھل گئی۔ اس سے پہلے کہ یہ کچھ عرض کریں، حضرت امیر کلال رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا: ہم اگر کشتی نہ لڑیں تو یہ طاقت کہاں سے آئے۔ یہ سن کر فوراً قدموں پر گر پڑے اور بیعت ہو گئے۔
(جامع کرامات اولیاء، السید امیر کلال،باب الالف،ج۱،ص۶۰۱،ملخصاً)
مرید کے لیے زہر قاتل
شیخ الشیوخ حضرت سیدنا شہاب الدین سہروردی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی عوارفُ المعارف شریف میں فرماتے ہیں:پیروں پر اعتراض کرنے سے ڈرنا