Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
24 - 55
کھلاتے ہیں یہاں تک کہ  وہ تکبر و غرور کا شکار ہو گیا اور یہ دعویٰ کرنے لگا کہ اس کی حالت اس کمال تک پہنچ چکی ہے کہ اس کی راتیں بھی جنت میں گزرتی ہیں۔ لوگوں نے اس کی خبر حضرت جُنید بَغْدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کو دی تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ بڑے ٹھاٹھ سے تکبر میں اکڑا بیٹھا ہے ۔آپ نے اس سے کیفیت پوچھی تو اس نے بڑے فخر سے اپنے بلند مقام اور جنّت کی سیر کاذکر کیا۔چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا: آج جب جنّت میں جاؤ تو تین مرتبہ  لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃ اِلَّا بِاللّٰہ پڑھنا۔ اس نے کہا:بہت اچھا۔ چنانچہ حسبِ معمول جب وہ جنّت میں پہنچا تو یاد آنے پر محض تجربہ کے طور پر اس نے تین بار لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃ اِلَّا بِاللّٰہ پڑھا۔تو اسے لے جانے والے تمام لوگ چیخ مار کر بھاگ گئے اور وہ کیا دیکھتا ہے کہ جنّت آنِ واحد میں اس کی آنکھوں سے غائب ہو گئی ہے اور وہ نجاست اور کوڑا کرکٹ والی جگہ پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے چاروں طرف مردار ہڈیاں پڑی ہیں۔ اسی وقت اس نے جان لیا کہ یہ ایک شیطانی جال تھا اور میں اس جال میں گرفتار تھا۔ فوراً توبہ کی اور اپنے پیر و مرشِد سید الطائفہ حضرت سیدنا جُنید بَغْدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔
(کشف المحجوب ، باب آدابہم فی الصحبۃ، ص ۳۷۷)