Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
23 - 55
مرید کسی نعمت کو اپنے پیر کی عطا نہیں سمجھتے اکثر شیطان کے ہاتھوں ان کا انجام برا ہوتا ہے۔ چنانچہ،
اور جنّت غائب ہو گئی
حضرت جُنید بَغْدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کے ایک مرید کو یہ سوجھی کہ میں کامل ہوگیا ہوں اور اب مجھے پیر کی صحبت و خدمت میں رہنے کی کوئی حاجت نہیں رہی بلکہ میرے لیے اکیلا رہنابہتر ہے۔ پس وہ گوشہ نشین ہو گیا اور حضرت جُنید بَغْدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کی خدمت میں حاضر ہونا چھوڑ دیا۔ ایک رات اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک اونٹ لے کر آئے ہیں اور اس سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اسے لینے آئے ہیں تا کہ وہ یہ رات جنت میں گزارے۔ چنانچہ وہ لوگ اسے اونٹ پر سوار کر کے لے گئے یہاں تک کہ ایک ایسی جگہ پہنچے جو بہت خوبصورت تھی، وہاں کی ہر ہر شے سے حسن ٹپکتا تھا، نفیس کھانوں کے ساتھ ساتھ میٹھے پانی کے چشمے بھی رواں تھے۔ وہ صبح تک وہاں کے مزے لیتا رہا اور جب صبح ہوئی تو اس نے خود كو اپنے حجرے میں پایا۔ یہ سلسلہ اسی طرح كئی روز تك جاری رہا كہ اسے ہر رات ایسے دکھائی دیتا کہ فِرشتے اسے سُواری پر بٹھا کر جنّت کی سیر کراتے اور طرح طرح کے میوے