یا نہیں؟ ادھر حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی نے بھی اپنے نورِ فراست سے اس کی حالت ملاحظہ فرما لی۔ چنانچہ جب وہ مرید آیا اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ سے ایک سوال پوچھا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا: کیسا جواب چاہتا ہے، لفظوں میں یا معنوں میں؟ بولا: دونوں طرح۔ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا: اگر لفظوں میں جواب چاہتا ہے تو سن! اگر مجھے آزمانے سے پہلے خود کو آزما اور پرکھ لیتا تو تجھے مجھے آزمانے کی ضرورت پیش نہ آتی اور نہ ہی تو یہاں مجھے آزمانے و پرکھنے آتا۔ اور معنوی جواب یہ ہے کہ میں نے تجھے منصبِ ولایت سے معزول کیا۔ یہ فرمانا تھا کہ اس مرید کا چہرہ سیاہ ہو گیا تو آہ و زاری کرنے لگااور عرض گزار ہوا: حضور یقین کی راحت میرے دل سے جاتی رہی ہے۔ پھر توبہ کی اور فضول باتوں پر بھی ندامت کا اظہار کیا تو حضرت جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی نے ارشاد فرمایا: تو نہیں جانتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ولی والیانِ اسرارِ الٰہی ہوتے ہیں، تجھ میں ان کی ضرب کی برداشت نہیں۔ ( کشف المحجوب، ص ۱۳۷)
معلوم ہوا مرید کو پیر کا امتحان لینے کے متعلق کبھی نہیں سوچنا چاہئے ورنہ رحمت خداوندی سے محروم ہونا پڑے گا۔ نیز کسی مقام و منصب کے حصول پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سب میرے پیر کی عطا ہے، کیونکہ جو