کےساتھ ہی رہے۔ (الانوار القدسیۃ فی معرفۃ قوائد الصوفیۃ، الجزء الثانی، ص۳۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا ہمیں کبھی اپنا ماضی نہیں بھولنا چاہئے اور یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے پیر کی بارگاہ میں آنے سے پہلے ہم سر سے پاؤں تک گناہوں میں غرق تھے، مرشِد کی نظر نے ہمیں گناہوں کے اس ریگستان سے نکال کر نیکیوں کے گلستان میں پہنچایا ہے۔ ہماری نیکیوں کے چراغ گناہوں کی تیز آندھیوں میں بجھ چکے تھے مگر مرشِد کے روحانی تصرف نے ان بجھے ہوئے چراغوں کو پھر سے روشن کر دیا ۔ لہٰذا یاد رکھئے کہ جب مرید اپنا ماضی بھلا دے تو اس کا عروج اور کمال زوال میں بدل جاتا ہے۔ چنانچہ،
پیرکا امتحان لینے والے کاانجام
حضرت داتا گنج بخش سید علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کا ایک مرید کچھ بد اعتقاد ہو گیا اور سمجھا کہ اسے بھی مَقامِ معرِفت حاصل ہوگیا ہے اب اسے مرشِد کی ضَرورت نہیں رہی۔ لہٰذا وہ خاموشی سے حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کی بارگاہ سے منہ موڑ کر چلا گیا۔ پھر ایک دن یہ دیکھنے و آزمانے آیا کہ کیا حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی اس کے دل کے خیالات سے آگاہ ہیں