Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
20 - 55
مزید فرماتے ہیں کہ اسرارِ الٰہی کو وہی شخص برداشت کر سکتا ہے جو پرہیز گار ہو، اس کا عقیدہ درست اور عزم پختہ ہو۔ اپنے پیر کے علاوہ کسی کی بات پر یقین نہ کرے بلکہ دیگر تمام لوگوں کی حیثیت اس کی نظر میں مردوں کی مانند ہو۔ (الابریز، الباب الخامس فی ذکر التشایخ و الارادۃ، الجزء الثانی، ص ۷۸)
پیر پر اعتراض کا دوسرا سبب
بعض اوقات کوئی مرید اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے اولیائے کاملین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین  بالخصوص اپنے پیر و مرشِد کی خدمت گزاری و رضا کے سبب کسی منصب پر فائز ہو جاتا ہے تو اسے پیر کا احسان ماننے کے بجائے اپنی محنت و خدمت کا صلہ سمجھتے ہوئے فخر و غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب اسے مزید خدمت بجا لانے کی ضرورت نہیں اس کا مقصود حاصل ہو چکا ہے۔پس یوں اپنے پیر کی بے اَدَبی یاگستاخی کا خیال اس کے دل میں جڑ پکڑنے لگتا ہے اور وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ آج جس مقام پر فائز ہے وہ سب پیر و مرشِد کی نگاہِ فیضِ اَثر کا صدقہ ہے اور اس کا شیخ اس کے دل کی بدلتی ہر کیفیت سے آگاہ ہے۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدنا علی بن وفا رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   (متوفی ۸۰۱ھ) فرماتے ہیں کہ جس مرید نے یہ گمان کیا کہ اس کا شَیخ اس کے دل کی بدلتی کیفیات اور اسرار سے واقف نہیں۔تو وہ اپنے شَیخ کے فیض سے محروم ہو جاتا ہے خواہ رات دن مرشِد