تمہیں بتائیں کہ میں نے گناہوں کا ارتکاب شروع کر دیا ہے کیا پھر بھی تمہاری محبت باقی رہے گی؟ اس نے عرض کی: جی ہاں! آپ نے دریافت کیا: اگر میں کئی برس تک مثلاً 20 برس تک گناہوں کی دلدل میں غرق رہوں تو پھر؟ اس نے عرض کی: پھر بھی میرے دل میں کوئی شک و شبہ داخل نہیں ہو گا۔ تو پیر صاحب نے فرمایا: عنقریب میں تمہارا امتحان لوں گا۔
حضرت سیدنا احمد بن مبارک مالکی سِجِلماسی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے مزید صبر نہ ہو سکا اور میں بول ہی پڑا اور اپنے اُس پیر بھائی سے کہا کہ ایسا مت کہو! تم سے ہر گز ایسا نہ ہو سکے گا۔ بلکہ مجھے یہ ڈر لگ رہا ہے کہیں تم راہِ راست سے بھٹک نہ جاؤ کیونکہ ایک اندھا شخص کسی دانا و بینا کو کیسے امتحان دے سکتا ہے؟ لہٰذا تم پیر صاحب سے معافی مانگ لو اور اپنی عاجزی اور کمزوری کا اعتراف کر لو، چلو میں بھی تمہارے ساتھ معافی مانگتا ہوں۔ پھر ہم دونوں نے حضرت سے معافی مانگی لیکن تقدیر کا لکھا پورا ہو کر رہا۔ کچھ عرصہ بعد شیخ نے اُسی مرید کو ایک کام کہا جو بظاہر اسے پسند نہ تھا لیکن حقیقت میں اس کے لیے فائدہ مند تھا۔ مگر وہ اس کی حکمت نہ جان سکا اور اس نے ناپسند جانتے ہوئے وہ کام نہ کیا یہاں تک کہ وہ حضرت کے متعلق بدگمانی کا شکار ہوکر بالآخرصحبتِ شیخ سے محروم ہو گیا۔