معلوم ہوا پیر کی خدمت بجا لا کر اسے جتلانا نہیں چاہئے کیونکہ ہم جیسوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہ برگزیدہ بندے اپنی خدمت کے لیے قبول فرما لیں یہ ہی ان کی مہربانی ہے۔ کیونکہ انہیں نہ تو ہماری خدمت کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہمارے مال و دولت کی کوئی حاجت۔ چنانچہ،
پیر کی مرید سے توقعات
حافظ الحدیث حضرت سیدنا احمد بن مبارک مالکی سِجِلْمَاسی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ (متوفی ۱۱۵۵ھ) اَلْاِبْرِیْز میں اپنے شیخ کریم حضرت سیدنا عبد العزیز بن مسعود دباغ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ (متوفی ۱۱۳۲ھ) کایہ قول نقل فرماتے ہیں کہ کوئی بھی شیخ اپنے مرید سے کسی قسم کی ظاہری خدمت، مالِ دنیا یا کسی اور فائدے کا طلب گار نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے مرید سے صرف یہ توقع ہوتی ہے کہ اس کا مرید ہر حالت میں اپنے شیخ کو صاحبِ کمال، صاحبِ توفیق، صاحبِ بصیرت، صاحبِ معرفت اور صاحبِ قرب سمجھے اور پھر ساری زندگی اسی عقیدے پر قائم رہے، اس صورت میں ہر قسم کی خدمت مرید کے لیے مفید ثابت ہو گی لیکن اگر یہ خوش اعتقادی موجود نہ ہو یا اگر ہو اور پختہ نہ ہو تو مرید کا دل وسوسوں کا شکار رہے گا اور اس صورت میں مرید کچھ بھی حاصل نہیں کر سکے گا۔ (الابریز، الباب الخامس فی ذکر التشایخ و الارادۃ، الجزء الثانی، ص ۷۸)