Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
16 - 55
خدمت کا حق ادا کر دیا ہے فیض دینا نہ دینا مرشِد کی مرضی ہے۔ یہ نادان لوگ نہیں جانتے کہ مرشِد کا حق ادا کرنا ان کے بس کی بات نہیں بلکہ ایسے وسوسے کا شکار ہونا ان کے لیے پیر کے فیض سے محرومی کا باعث ہے۔ چنانچہ، 
کیا پیر کا حق ادا ہو سکتا ہے؟
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْبَاقِی  سے جب یہ عرض کی گئی کہ پیر کا مرید پر کس قدر حق ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی مرید عمر بھر حج کی راہ میں پیر کو سر پر اٹھائے رکھے تو بھی پیر کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ (ہشت بہشت، ص ۳۹۷) اور حضرت سیدنا امام عبد الوہاب شعرانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّورَانِی   (متوفی ۹۷۳ھ) اَلْاَنْوَارُ الْقُدسِيَّةُ فِی مَعْرِفَةِ قَوَاعِدِ الصُّوْفيَّة میں ارشاد فرماتے ہیں: مرید کی شان یہ ہے کہ کبھی اس کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ اس نے اپنے مرشِد کے احسانات کا بدلہ چکا دیا ہے ۔اگرچہ اپنے مرشِدکی ہزار برس خدمت کرے اور اس پر لاکھوں روپے بھی خرچ کرے کیونکہ جس مرید کے دل میں اتنی خدمت اور اتنے خرچ کے بعد یہ خیال آیا کہ اس نے مرشِد کا کچھ حق ادا کردیا ہے تو وہ راہِ طریقت سے نکل جائے گا یعنی پیر کے فیض سے اس کا کوئی تعلق باقی نہ رہے گا۔ (الانوار القدسیۃ، الجزء الثانی، ص ۲۷)