Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
14 - 55
اللّٰہ تعالٰی عنہ  مسجد نبوی میں تشریف لائے تو  کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے روضۂ انور کے پاس بیٹھے اَشک بہا رہے ہیں، سبب دریافت فرمایا تو حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  نے بتایا کہ مجھے اس بات نے رُلایا ہے جو میں نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے رسول صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سنی ہے کہ تھوڑی سی ریا کاری بھی شرک ہے اور جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے کسی ولی سے دشمنی کی اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   سے اعلانِ جنگ کیا۔
(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب من ترجی لہ السلامۃ من الفتن ، الحدیث:۳۹۸۹، ج۴، ص۳۵۱)
کچھ ولی پوشیدہ ہوتے ہیں
حکیم الا ُمت حضرت سیِّدُنامفتی احمد یارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی (متوفی ۱۳۹۱ھ) اس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں: میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ حضور انور (صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) نے فرمایا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے دوستوں کی ایذا، رب سے جنگ ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے اولیا ایسے چھپے ہوئے ہیں کہ ان کی پہچان بہت مشکل ہے بہت دفعہ پڑوسیوں دوستوں سے شکر رنجی ہوجاتی ہے ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی ولی اللہ  ہو اور ان کی تکلیف میرے لیے مصیبت بن جاوے۔
(مراۃ المناجیح، کتاب الرقاق، باب الریا والسمعۃ، ج۷،ص۱۳۸)