Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
13 - 55
بھول جائے، ان کا تذکرہ کرےنہ شکریہ ادا کرے تو وہ قربِ خداوندی سے بھی محروم رہتا ہے۔ جیسا کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ نصیحت نشان ہے: جو لوگوں کا شکر ادا نہيں کرتا وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کا شکر گزار بھی نہيں ہو سکتا۔
(ابو داود، کتاب الادب، باب فی شکر المعروف، الحدیث: ۴۸۱۱،ج٤، ص٣٣٥)
پیر کامل کو تکلیف دینا
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: جس نے کسی مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کو تکلیف دی۔
(المعجم الاوسط، الحدیث: ۳۶۰۷، ج۲، ص۳۸۷) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! جب کسی عام اسلامی بھائی کو تکلیف دینا حرام و جہنم میں لے جانے والا کام اور اللہ  و رسول عَزَّ  وَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تکلیف دینا ہے تو جو بد نصیب اپنے پیر و مرشِد کی دل آزاری کا باعث بنے کیا اس پر رب تعالیٰ غضب نہ فرماتا ہوگا؟ چنانچہ، 
اولیائے کاملین سے دشمنی کاوبال
مروی ہے کہ ایک دن امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب  رضی