Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
12 - 55
ناشکری
دو عالم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ ذی وقار ہے: جس پر کوئی احسان کیا جائے اور وہ طاقت رکھتا ہو تو اس احسان کا بدلہ ضرور دے ورنہ احسان کرنے والے کی تعريف ہی کر دے کيونکہ جس نے احسان کرنے والے کی تعريف کی اس نے شکریہ ادا کيا اور جس نے کسی کے احسان کو چھپايا اس نے ناشکری کی۔
(الترمذی، ابواب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی المتشبع۔۔۔الخ،  الحدیث: ۲۰٤١،ج٢، ص٤١٧) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا جب کسی کااحسان چھپانا کفرانِ نعمت یعنی ناشکری ہے تو اس شخص کی ناشکری کا عالَم کیا ہو گا جو اپنے سب سے بڑے محسن یعنی پیر و مرشِد کے احسان کو یکلخت بھلا دے جن کی برکت سے اسے اپنی اور اپنے رب 1 کی پہچان ملی۔ چنانچہ، 
فتاویٰ رضویہ شریف میں اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن   نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ شیخ کی تعظیم خالقِ کائنات کی تعظیم ہے اور شیخ کی نعمت کا شکر اس نعمت کو عطا کرنے والے اللہ کا شکر ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج۲۷، ص ۸۵۔۔۔  کلماتِ طیبات فصل چہارم درمکتوبات شاہ ولی اللہ دہلوی  مطبع مجتبائی دہلی  ص ۱۶۳ ) جو شخص اپنے محسن کے احسانات