فرماتے۔ ایک مرتبہ خلیفۂ وقت''مُعْتَضِد باللہ'' نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف پیغام بھیجا: ''فلاں تاجر نے ہم سے بیع کی اور نقد رقم نہ دی۔وہ میرے علاوہ دوسروں کا بھی مقروض ہے، مجھے خبر پہنچی ہے کہ دوسرے قرض خواہوں نے آپ کے پاس گواہ پیش کئے تو آپ نے اس تاجر کا مال ان میں تقسیم کر دیا ہے ۔ مجھے اس مال سے کچھ بھی نہیں ملا حالانکہ جس طر ح وہ دوسروں کا مقروض تھا اسی طرح میرا بھی تھا ، لہٰذامیرا حصہ بھی دیا جائے ۔''
پیغام پاکر قاضی ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم نے قاصد سے کہا:'' خلیفہ سے کہنا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی عمر دراز فرمائے، وہ وقت یاد کرو جب آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ میں نے فیصلوں کی ذمہ داری کا بوجھ اپنی گردن سے اُتار کر تمہارے گلے میں ڈال دیا ہے ۔ اے خلیفہ! اب میں فیصلہ کرنے کا مختار ہوں اور میرے لئے جائز نہیں کہ گواہوں کے بغیر کسی مُدَّعِی کے حق میں فیصلہ کروں۔'' قاصد نے قاضی صاحب کاپیغام سنایا توخلیفہ نے کہا:'' جاؤ ! قاضی صاحب سے کہوکہ میرے پاس بہت معتبر اور معزز گواہ موجود ہیں۔ جب قاضی صاحب کو یہ پیغام ملا تو فرمایا:'' گواہ میرے سامنے آکر گواہی دیں ،میں ان سے پُوچھ گَچھ کرو ں گا شہادت کے تقاضوں پر پورے اُتر ے تو ان کی گواہی قبول کرلوں گا ورنہ وہی فیصلہ قابل عمل رہے گا جو میں کر چکا ہوں ۔''
جب گواہوں کو قاضی صاحب کا یہ پیغام پہنچا تو انہوں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے خوف کھاتے ہوئے عدالت آنے سے انکار کردیا۔ لہٰذا قاضی صاحب نے خلیفہ مُعْتَضِد باللہ کا دعویٰ رَد ّکرتے ہوئے اسے کچھ بھی نہ بھجوایا ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)