حالانکہ بظاہر وہاں کو ئی شخص موجود نہ تھا۔ میں نے حیران ہوکر اس سے کہا: ''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے، میں تیرے علاوہ دیگر رونے والوں کی آوازیں بھی سن رہا ہوں ، یہ آوازیں کہا ں سے آرہی ہیں ؟'' کہا:''کچھ جِنّات میرے گہرے دوست ہیں، جب بھی میں روتا ہوں وہ بھی میرے ساتھ رونے لگ جاتے ہیں ۔''
حضرتِ سیِّدُنامَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :''اتنا کہنے کے بعد وہ شخص وہاں سے غائب ہوگیااورمیں اکیلا حیران وپریشان کھڑا رہا۔ اس وقت میں اپنے آپ کو بہت کمتر محسوس کر رہا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ نمودار ہوا تو میں نے کہا:''مجھے ذرا تفصیل سے بتا ؤ کہ تمہارے ساتھ یہ معاملات کیوں اور کیسے ہوتے ہیں ؟'' یہ سن وہ بہت گھبرایا اور چونک کر بڑے سخت لہجے میں کہا : '' اے چور !کیا تومیرے اور میرے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ کے درمیان رکاوٹ بننا چاہتا ہے، خدائے بُزُرْگ و بر تر عَزَّوَجَلَّ اور اس کی عزت کی قسم! میں اپنا رازہرگز اس کے علاوہ کسی اور کو بتا نا پسند نہیں کرتا ۔ اتنا کہہ کر وہ بندۂ خدا دوبارہ غائب ہوگیا ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ رَبُّ العزَّت اپنے بندو ں کو طر ح طر ح کی صفات سے مُتَّصِف فرماتااور طر ح طر ح سے ان پر اپنی رحمتیں نچھاور فرماتاہے۔ کسی کو رُلاتا ہے تو کسی کو ہنساتا ہے۔ کبھی خوشیوں سے دامن بھر دیتا ہے تو کبھی رنج وغم میں مبتلا فرمادیتاہے۔ کبھی بھوک وپیاس کے ذریعے اپنے اولیاء کے درجات بلند فرماتا ہے توکبھی ایسی ایسی جگہ سے رزق کے خزانے عطا فرماتا ہے جہاں سے وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔ بہترین انسان وہی ہے جو اس کی رضا پر راضی رہے اور اس کے حکم پر اپنی تمام خواہشات قربان کر دے۔ جو خوش نصیب ایسا کرتے ہیں وہ دنیا و آخرت میں سُرخرو ہوجاتے ہیں اور ہر قدم پر کامیابی ان کے قدم چوم لیتی ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے اور ناشکر ی سے بچائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)