اوقاف کی تمام زمین سے غلّہ وغیرہ وصول کر لیا ہے اور تمام آمدنی میرے پاس موجود ہے ،آپ مجھے اسے تقسیم کرنے کی اجازت دیں تا کہ جتنا غلہ بیج کے لئے درکار ہے اتنا علیحدہ کر کے باقی مستحقین میں تقسیم کردو ں۔''
قاضی صاحب نے کہا :'' کیا جو زمین خلیفہ مُعْتَضِد باللہ نے اپنے محل کے اِحاطہ میں شامل کی ہے ، اس کی آمدنی بھی وصول کرلی گئی ہے ؟''میں نے کہا:''حضور!خلیفہ سے کون مطالبہ کر سکتا ہے ؟'' فرما یا:'' خدا ئے بزرگ وبر تر کی قسم! میں اس وقت تک کچہری ختم نہ کرو ں گا جب تک وہ تمام رقم وصول نہ کرلوں جو خلیفۂ وقت کے ذمہ ہے ، بخدا اگر خلیفہ نے غلہ یا اس کی قیمت ادا نہ کی تو میں کبھی بھی عہدۂ قضاء قبول نہ کروں گا۔ اے وَکِیْع! تم فوراً خلیفہ کے پاس جاؤ اور رقم کا مطالبہ کرو! میں نے کہا: ''مجھے دربارِ شاہی تک کون پہنچا ئے گا ؟'' فرمایا: فلاں سرکاری نمائندے کے پاس جاؤ اور کہو کہ'' میں قاضی صاحب کا قاصد ہوں، ایک بہت ہی اہم کام کے سلسلے میں اِسی وقت خلیفہ کے پاس حاضر ہو نا چاہتا ہوں تم مجھے دربار شاہی تک لے چلو ۔'' وَکِیْع کہتے ہیں کہ میں اس سرکاری نمائندے کے پاس پہنچا تووہ مجھے لے کر خلیفہ کے محل پہنچا۔ رات کا آخری پہر تھا ، ہر طرف سناٹا چھایا ہواتھا ۔ پورا شہر خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا ۔جب خلیفہ کو بتایا گیا کہ ایک بہت ضروری کام کے سلسلے میں قاضی ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کا قاصد آیا ہے تو خلیفہ نے فورا مجھے اپنے پاس بلا لیا اور کہا: ایسا کون سا ضروری کام ہے جس کی خاطر اتنی رات گئے آنا پڑا۔ میں نے کہا :'' حضور ! آج میں نے تمام موقوفہ زمینوں کا حساب کیا اور ان کی آمدنی قاضی ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم تک پہنچا کر مستحقین میں تقسیم کرنے کی اجازت طلب کی،قاضی صاحب نے تفتیش کی تو اس زمین کی آمدنی اس مال میں شامل نہ تھی جو آپ کے محل کے احاطہ میں داخل کر دی گئی ہے ، قاضی صاحب نے فرمایا:اس وقت تک یہ آمدنی کہیں بھی صرف نہ ہوگی جب تک خلیفہ کے محل میں شامل کردہ زمین کی آمدنی وصول نہ ہوجائے۔بس اسی سلسلے میں حاضر ہواہوں ۔''
خلیفہ مُعْتَضِدباللہ کچھ دیر خاموش رہا ، پھر کہا:''بے شک قاضی صاحب نے صحیح کیا ، اور وہ حق کو پہنچ گیا۔''یہ کہہ کر اس نے خادمین سے کہا ، جاؤ اور فلاں صندوق اٹھا لاؤ،حکم کی تعمیل ہوئی دراہم ودنانیر سے بھرا صندوق لایا گیا ، خلیفہ نے کہا:'' بتا ؤ، ہمارے ذمہ کتنا مال ہے ؟'' میں نے کہا :'' جب سے وہ زمین محل میں شامل کی گئی ہے اس وقت سے اب تک اس ز مین سے تقریباً چار سو دینار آمدنی ہو سکتی تھی ، آپ اتنی ہی رقم ادا کردیں۔'' خلیفہ نے کہا:''بتا ؤ گِن کر اداکروں یا وزن کرو اکر ؟'' میں نے کہا:جو طریقہ زیادہ بہتر ہووہی اختیار فرمائیے ۔''خلیفہ نے ترازومنگوایاا اور چار سو دینارتول کر میرے حوالے کردیئے گئے۔ میں تمام رقم لے کر قاضی ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے پاس پہنچا اور سارا واقعہ کہہ سنایا۔'' فرمایا:'' یہ رقم فوراً وقف کی آمدنی میں شامل کر دو اور صبح ہوتے ہی بیج کے لئے غلہ نکال کر بقیہ مال مستحقین میں تقسیم کردینا۔ خبردار ! اس معاملے میں ذرا سی بھی تا خیرنہ کرنا ۔''
قاضی وَکِیْع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں: ''جب لوگو ں کو قاضی ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی جرا ء َت مندی، عدل وانصاف اور