Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
97 - 412
سے کئے جانے والے سوال کی سچائی ،مخلوق سے کئے ہوئے سوال کا کَفّارہ ہوجاتی ہے۔ اورفقراء کے یہ تینوں طبقے کا میاب ہیں۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر276:                انوکھا مسافر
    حضرتِ سیِّدُنا مَعْرُوْف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:'' ایک مرتبہ دورانِ سفر ایک وادی میں میری ملاقات ایک ایسے اجنبی سے ہوئی جو بالکل تنہاتھا۔پہنے ہوئے لباس کے علاوہ اس کے پاس کوئی چیز نہ تھی۔ میں نے اسے سلام کیا ، اس نے سلام کا جواب دیا، میں نے کہا :''اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم کرے! کہا ں کا ارادہ ہے ؟'' کہا:'' میں نہیں جانتا ۔ '' میں نے کہا:'' کیا تو نے کبھی کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو کسی نا معلوم جگہ جا رہاہو؟'' کہا:''جی ہاں! میں انہیں میں سے ایک ہوں۔'' میں نے کہا: ''پھر بھی تمہارا کہاں کا ارادہ ہے ؟''کہا :'' مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا۔'' میں نے کہا:'' تُو مکہ شریف کی نیت کئے ہوئے ہے لیکن تُو جانتا نہیں کہ کس طرف جانا ہے ؟'' اس نے کہا:'' ہاں !واقعی ایسا معاملہ ہے کیونکہ بارہا ایسا ہوا کہ میں مکہ شریف کے قصد سے چلا لیکن''طَرَسُوْس'' پہنچ گیا۔ اور کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں طَرَسُوْس کی طرف چلا لیکن'' مکہ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا'' پہنچ گیا۔ اور ایسابھی ہوا کہ میں بصرہ کی طرف چلا لیکن کسی اور مقام پر جا پہنچا ۔ایسے معاملات میرے ساتھ ہوتے رہتے ہیں ، اس مرتبہ بھی مکہ شریف کے قصد سے چلا ہوں، دیکھو! اب کہاں پہنچتا ہوں ۔''

     میں نے کہا:'' تمہارے کھانے کا انتظام کیسے ہوتا ہے ؟'' کہا:'' یہ معاملہ ایک کریم کے ذمۂ کرم پر ہے۔ جب وہ مجھے بھوکا رکھنا چاہتا ہے تو کھانا موجود ہونے کے باوجود میں بھوکا ہی رہتا ہوں۔ جب کھلانا چاہتا ہے تو بغیر کھانے کے بھی میں سیر ہو جاتا ہوں۔ کبھی وہ میری عزت افزائی فرماتا ہے تو کبھی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے یہ غیبی آوازسنواتا ہے: '' اے چور ! زمین پر تجھ سے بڑا شریر کوئی نہیں۔ '' اور کبھی یہ آواز سنائی دیتی ہے: '' زمین پر تیری مثل کوئی نہیں اور نہ ہی تجھ سے بڑھ کر کوئی زاہد ہے ۔'' میرا مالک کبھی تو مجھے بہترین بستر پر سُلاتا ہے، کبھی اس سے دور پھینک کر و یران جگہوں میں سلاتا ہے۔'' میں نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے! وہ کون ہے جس کے متعلق تو گفتگو کر رہا ہے؟'' کہا: ''وہ تمام جہانوں کا پالنے والا ،خدائے بزرگ وبَرتَر ہے، اس نے مجھے ایسے سمندر میں ڈال دیا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔'' اتنا کہہ کر وہ شخص زار وقطاررونے لگا، مجھے اس پر بڑا ترس آیایہاں تک کہ اس کے رونے نے مجھے بھی رُلادیا ۔ پھر میں نے آس پاس کی تمام وادیوں سے رونے کی آواز سنی
Flag Counter