کسی کو بھی اس واقعہ کی خبر نہ دینا ۔'' پھر راتوں رات آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے رخصت ہوگئے ۔قرض خواہ نے صبح ہوتے ہی مقروض نوجوان کو رہا کر دیا۔ نوجوان جب باہر آیاتو لوگو ں نے کہا: '' حضر ت سیِّدُنا عبداللہ بن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کے متعلق پوچھ رہے تھے ، اب وہ واپس جاچکے ہیں ، یہ سن کر نوجوان آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تلاش میں نکل پڑا اور تین دن کی مسافت طے کرکے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس پہنچا ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے دیکھا تو پوچھا:'' اے نوجوان ! تم کہاں تھے ؟میں نے تمہیں مسافرخانے میں نہیں پایا۔'' نوجوان نے کہا: ''اے ابو عبد الرحمن علیہ رحمۃ اللہ المنّان !مجھے قرض کے عوض قید کرلیا گیا تھا۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا: ''پھر تمہاری رہائی کا کیا سبب بنا؟'' کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کسی نیک بندے نے میرا قرض ادا کردیا، اس طرح مجھے رہائی مل گئی۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ''اے نوجوان ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرو کہ اس نے کسی کو تیرا قرض ادا کرنے کی توفیق دی اورتجھے رہائی عطافرمائی ۔''
راوی کہتے ہیں: جب تک حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زندہ رہے تب تک اس قرض خواہ نے کسی کو بھی خبر نہ دی کہ نوجوان کاقرض کس نے ادا کیا ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعداس نے ساراواقعہ لوگو ں کو بتا دیا۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)