Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
86 - 412
کسی کو بھی اس واقعہ کی خبر نہ دینا ۔'' پھر راتوں رات آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے رخصت ہوگئے ۔قرض خواہ نے صبح ہوتے ہی مقروض نوجوان کو رہا کر دیا۔ نوجوان جب باہر آیاتو لوگو ں نے کہا: '' حضر ت سیِّدُنا عبداللہ بن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کے متعلق پوچھ رہے تھے ، اب وہ واپس جاچکے ہیں ، یہ سن کر نوجوان آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تلاش میں نکل پڑا اور تین دن کی مسافت طے کرکے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس پہنچا ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے دیکھا تو پوچھا:'' اے نوجوان ! تم کہاں تھے ؟میں نے تمہیں مسافرخانے میں نہیں پایا۔'' نوجوان نے کہا: ''اے ابو عبد الرحمن علیہ رحمۃ اللہ المنّان !مجھے قرض کے عوض قید کرلیا گیا تھا۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا: ''پھر تمہاری رہائی کا کیا سبب بنا؟'' کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کسی نیک بندے نے میرا قرض ادا کردیا، اس طرح مجھے رہائی مل گئی۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ''اے نوجوان ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرو کہ اس نے کسی کو تیرا قرض ادا کرنے کی توفیق دی اورتجھے رہائی عطافرمائی ۔''

    راوی کہتے ہیں: جب تک حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زندہ رہے تب تک اس قرض خواہ نے کسی کو بھی خبر نہ دی کہ نوجوان کاقرض کس نے ادا کیا ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعداس نے ساراواقعہ لوگو ں کو بتا دیا۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر266:             اُڑتا ہوا دسترخوان
    حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے ہوئے سنا:'' میں ملکِ شام کے پہاڑی علاقوں میں تھا۔ وہاں چندایسے لوگو ں کو دیکھاجنہوں نے اُونی چوغے پہنے ہوئے تھے، ہر ایک کے ہاتھ میں پانی پینے کا ڈول اور لاٹھی تھی۔انہوں نے مجھے دیکھا توکہنے لگے: آؤ، ابو فیض ذُوالنُّوْن مِصْرِی کی طرف چلتے ہیں ۔ وہ میرے پاس آئے اور سلام کیا: میں نے جواب دیا اور پوچھا:'' تم کہا ں سے آئے ہو؟''ایک نے جواب دیا:''ہم الفت ومحبت کے باغات سے آئے ہیں۔'' میں نے پوچھا: ''کس کی مدد سے تم یہاں پہنچے؟'' کہا :''اس پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی مدد سے جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے ۔''

     میں نے پوچھا :''تم وہاں کیا کرتے ہو؟ '' دوسرے شخص نے کہا:'' ہم وہاں وجْدکے پیالوں سے اُلفت ومحبت کے جام پیتے ہیں۔ ''میں نے کہا:'' آخر وہ کون ہے جو اس معاملے میں تمہاری مدد کرتا ہے ؟''کہا:'' دلوں کو بزرگی بخشنے والی، محبوب کی ہمدردی پیدا کرنے والی ،خالص کوشش اور انتہائی اشکباری اس معاملے میں ہماری مد دگار ہے۔ جب ہم محبت کا جام پی لیتے ہیں تو اس کے
Flag Counter