| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے رفقاء سے فرمایا:'' بتا ؤ، تمہارے گھر والوں نے مکۂ معظمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا سے کیا چیز خرید کر لانے کو کہا تھا، اسی طرح آپ نے ہر ایک سے پوچھا : جس نے جو چیزبتائی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خرید کردی ۔ واپسی پر بھی دل کھول کر خرچ کیا۔جب یہ قافلہ اپنے علاقے میں پہنچ گیا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کے گھرو ں پر پلستر کروا کر چونا کروایا ، تین دن بعد اپنے تمام رفقائے سفر کی دعوت کی اور انہیں بہترین کپڑے پہنائے۔ جب وہ کھانا کھاچکے توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے صندوق منگواکر کھولا اور ہر ایک کازادِراہ واپس کردیا ۔
راوی کہتے ہیں، میرے والد نے مجھے بتایا: حضرت سیِّدُنا ابن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ایک خادم نے مجھے بتایا کہ ''آخری سفر کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے رفقاء کی دعوت کی اور اس میں 25دستر خوانوں پر فالودہ رکھا گیا ۔(راوی مزید فرماتے ہیں کہ) حضرت سیِّدُنا ابن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق سے فرمایا :'' اگر آپ اور آپ کے رفقاء نہ ہوتے تو میں تجارت نہ کرتا۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہر سال فقراء پر ایک لاکھ درہم خرچ کیا کرتے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)حکایت نمبر265: اُ ستا ذ ہو توا یسا۔۔۔۔۔۔!
حضرت سیِّدُنا محمد بن عیسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر ''طَرَسُوْس'' کی طرف جاتے اور وہاں ایک مسافر خانے میں ٹھہرتے ، ایک نوجوان آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حدیث سنا کرتا ، جب بھی آپ ''رِقَّہ'' (نامی شہر میں ) تشریف لاتے وہ نوجوان حاضرِ خدمت ہوجاتا ۔ ایک مرتبہ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ''رِقَّہ' ' پہنچے تو اس نوجوان کو نہ پایا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس وقت جلدی میں تھے کیونکہ مسلمانوں کا ایک لشکر جہاد کے لئے گیا ہوا تھا آپ بھی اس میں شرکت کے لئے آئے تھے ۔ چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لشکر میں شامل ہوگئے ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! مسلمانوں کو فتح ہوئی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ غازی بن کر واپس طَرَسُوْس آئے اور ''رِقَّہ'' پہنچ کراپنے اس نوجوان شاگرد کے بارے میں پوچھاتو پتا چلا کہ نوجوان مقروض تھااور ا س کے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ وہ قرض ادا کرتا لہٰذا قرض ادانہ کرنے کی وجہ سے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔''
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:'' میرے اس نوجوان شاگرد پر کتنا قرض تھا ؟''کہا :'' دس ہزار درہم۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پوچھتے پوچھتے قرض خواہ کے گھر پہنچے ، اسے دس ہزار درہم دے کراپنے شاگر د کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا:'' جب تک میں زندہ رہوں اس وقت تک