Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
84 - 412
دوست کے پاس گیاسارا واقعہ سنایا اوراسے اپنے ساتھ لے کر واپس نہر پر آیا ۔اس نے ہنڈیا دیکھی تو اس میں بکری کا بھنا ہوا گوشت تھا اور اخروٹ ہنڈیا کے اوپر رکھے ہوئے تھے۔ اس نے اخروٹوں کو اُلٹ پَلٹ کر تے ہوئے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میری طلب پوری ہوگئی جو چیز میں نے چاہی مجھے مل گئی ۔'' 

    پھر اپنے نفس کو مخاطب کر کے کہا :'' اے نفس ! تو نے جس چیز کی خواہش کی وہ تیرے سامنے موجود ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں تجھے اس میں سے کچھ بھی نہ چکھاؤں گا۔''یہ کہہ کروہ واپس پلٹ آیا اور اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر264:            ماتحتوں کی زبردست خیر خواہی
    حضرت سیِّدُنا محمدبن علی بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ فرماتے ہوئے سنا:''حضرت سیِّدُنا ابن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جب حج کا ارادہ کیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے رفقاء ''اَہْلِ مَرْوْ''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آئے اور کہنے لگے :''اے ابو عبدالرحمن علیہ رحمۃ اللہ المنان !ہم حرمین شریفین کا سفر آپ کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں ،آپ ہمیں اپنی رَفاقت کی اجازت عطا فرما دیجئے۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :'' اپنا تمام زادِراہ میرے پاس لے آؤ ۔'' وہ اپنا زادِ راہ لے آئے ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تمام زادِ راہ لیا اور ایک صندوق میں بند کر کے تالا لگا کر ایک محفوظ جگہ رکھ دیا۔ پھر ان کے لئے سواریاں کرائے پر لیں اور یہ قافلہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اَمارَت (یعنی نگرانی )میں سوئے حرم چل دیا ۔

    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کے کھانے پینے کا انتظام اپنی طر ف سے کرتے رہتے ،انہیں عمدہ سے عمدہ کھانا کھلاتے، بہترین پانی فراہم کرتے۔جب یہ قافلہ بغداد پہنچا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تمام قافلے والوں کے لئے بہترین لباس خریدا۔ اور کھانے پینے کاوافر سامان ساتھ لے کریہ قافلہ دوبارہ جانبِ منزل چل دیا۔ بالآخر یہ قافلہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ایک ولئ کامل کی رہنمائی میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مُبَارَک شہر مدینہ منورہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاپہنچا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے ہر ہر رفیق سے پوچھا : '' تمہارے گھر والوں نے تمہیں مدینہ منورہ زَادَہَااللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا سے کون سا تحفہ لانے کو کہا؟'' ہر ایک نے اپنی اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہر ایک کو اس کی مطلوبہ شئے خرید کر دیتے رہے ۔

    پھر مکۂ معظمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا کی پُر نور فضاؤں میں پہنچ کر مناسک ِ حج ادا کئے ،حج مکمل ہوجانے کے بعد آپ رحمۃ
Flag Counter