باتوں میں سے مجھے بھی کچھ بتایئے ۔
فرمایا : ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہر وہ بندہ جو ولایتِ کاملہ کے درجے پر فائز ہو وہ ہر جمعرات کو اس بابرکت شہر میں آتا ہے اور کبھی بھی ناغہ نہیں کرتا ۔میں اسی لئے یہاں رکا ہواہوں تا کہ ان اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے کسی ولئ کامل کی زیارت سے فیضیاب ہو سکوں ۔ میں نے مالک بن قاسم جَبَلِی علیہ رحمۃ اللہ الولی نامی ایک شخص کو دیکھا ان کے ہاتھ میں کچھ کھجوریں تھیں ،میں نے ان سے کہا: ''کیاآپ کھانا کھا کر آرہے ہیں ؟'' انہوں نے کہا''اَسْتَغْفِرُاللہ''میں نے تو کئی ہفتوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ، ہاں! میں نے اپنی والدہ کو کھجوریں کھلائی ہیں اور اب فجر کی نماز پڑھنے کے لئے حرم شریف آیا ہوں۔'' حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ''حرم شریف اور اس کے گھر کا درمیانی فاصلہ سات سو (700) فرسخ (یعنی2100میل) تھا ، وہ وہاں سے فجر کی نماز پڑھنے مسجد ِ حرام میں آیا تھا، کیا تم اس بات پر یقین کرلو گے؟ میں نے کہا: ''کیوں نہیں، فرمایا:'' تمام تعریفیں اسی پاک پر وردگارعَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے مجھے ایسے مسلمان شخص سے ملوایا جو اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی کرامات کا ماننے والا اور انہیں حق جاننے والا ہے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)