Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
83 - 412
باتوں میں سے مجھے بھی کچھ بتایئے ۔ 

    فرمایا : ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہر وہ بندہ جو ولایتِ کاملہ کے درجے پر فائز ہو وہ ہر جمعرات کو اس بابرکت شہر میں آتا ہے اور کبھی بھی ناغہ نہیں کرتا ۔میں اسی لئے یہاں رکا ہواہوں تا کہ ان اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے کسی ولئ کامل کی زیارت سے فیضیاب ہو سکوں ۔ میں نے مالک بن قاسم جَبَلِی علیہ رحمۃ اللہ الولی نامی ایک شخص کو دیکھا ان کے ہاتھ میں کچھ کھجوریں تھیں ،میں نے ان سے کہا: ''کیاآپ کھانا کھا کر آرہے ہیں ؟'' انہوں نے کہا''اَسْتَغْفِرُاللہ''میں نے تو کئی ہفتوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ، ہاں! میں نے اپنی والدہ کو کھجوریں کھلائی ہیں اور اب فجر کی نماز پڑھنے کے لئے حرم شریف آیا ہوں۔'' حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ''حرم شریف اور اس کے گھر کا درمیانی فاصلہ سات سو (700) فرسخ (یعنی2100میل) تھا ، وہ وہاں سے فجر کی نماز پڑھنے مسجد ِ حرام میں آیا تھا، کیا تم اس بات پر یقین کرلو گے؟ میں نے کہا: ''کیوں نہیں، فرمایا:'' تمام تعریفیں اسی پاک پر وردگارعَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے مجھے ایسے مسلمان شخص سے ملوایا جو اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی کرامات کا ماننے والا اور انہیں حق جاننے والا ہے ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر263:             تیرتی ہوئی ہنڈیا
    حضرتِ سیِّدُناابو مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ''میں نے حضرتِ سیِّدُنااَسْوَد بن سَالِم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' ایک مرتبہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ''طَرَسُوْس'' کی طرف روانہ ہوا ، جب وہاں پہنچے تو جہاد کے لئے صدائیں بلند ہو رہی تھیں، کفار سے لڑنے کے لئے طَرَسُوْس کے مجاہد روم کی طرف جارہے تھے۔ ہم بھی مجاہدین کے ساتھ دشمن کی سر کوبی کے لئے روانہ ہوگئے ، روم کے کسی علاقے میں میرا رفیق بیمار ہوگیا میں نے اس سے پوچھا :'' کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے؟''

     کہا :'' ہاں! میں بھُنی ہوئی بکری اور اخروٹ کھانا چاہتا ہوں ۔''میں نے کہا :'' بیماری کی وجہ سے تمہارا دماغ چل گیا ہے، اس لئے ایسی باتیں کررہے ہو؟ ذرا سو چو تو سہی ، ہم اس وقت دشمنوں کے علاقے میں ہیں اور تم بھنی ہوئی بکری کی خواہش کر رہے ہو،یہ بہت مشکل ہے کہ تمہاری خواہش پوری ہو جائے۔'' کہا :''آپ نے میری خواہش پوچھی تو میں نے اظہار کردیا ۔''

    حضرت سیِّدُنا اَسْوَد بن سَالِم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' ایک جگہ مجاہدین کے لشکر نے قیام کیا ،میں اپنے گھوڑے کو پانی پلانے قریبی نہر پرلے گیا۔ میں نے نہر کے پانی پر ایک ہنڈیا تیرتی دیکھی جس کے اوپر چھ( 6)اخروٹ تھے۔ میں دوڑتا ہو اپنے
Flag Counter