| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
شَقِیق بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ الکریم فرماتے ہیں :''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ ایمان افر و ز خواب سن کر میں نے ان کی ہتھیلی چوم لی اور بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس ولئ کامل کو وسیلہ بناتے ہوئے اس طرح عرض گزار ہوا: ''اے بھوکوں کو ان کی پسندیدہ اشیاء کھلانے والے! اے مُحِبِّیْن کو اپنی محبت کے جام بھر بھر کر پلانے والے! کیا تیرے ہاں شَقِیق کا کوئی مرتبہ ہے؟ اے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ ! تجھے اپنے اس ولی اور اس کے ہاتھ کا واسطہ! اور تجھے تیرے اس کرم کا واسطہ جو تو نے اپنے اس ولی پر فرمایا اپنے اس بندے پر بھی ایک نگاہِ کرم فرمادے جو تیرے فضل اور احسان کا محتاج ہے، اگر چہ وہ اس قابل نہیں کہ اس کو یہ نعمتیں عطا کی جائیں تُو محض اپنی رحمت سے فضل فرمادے ۔'' جب میں دعا سے فارغ ہو ا تو حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم اُٹھ کر مسجدِ حرام کی طر ف چل دیئے اور میں بھی ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر262: مکۂ معظَّمہ کی شان
حضرتِ سیِّدُنا عبدالعزیز اَہْوَازِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ علیہ رحمۃاللہ نے مجھ سے فرمایا : ''بے شک کسی ولی کا لوگوں سے میل جول رکھنا اس کے لئے ذلت کا باعث ہے اور لوگوں سے علیحدگی باعث ِ عزت۔ اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جنہوں نے گو شہ نشینی اختیار نہ کی ہو ۔حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول ولی تھے، ان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت عطائیں تھیں ، وہ لوگوں سے دور رہنا پسند کرتے اسی لئے کبھی کسی شہر میں تو کبھی کسی شہر میں ہوتے۔ بالآخر وہ مکۂ معظمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا میں آئے اور وہیں مقیم ہوگئے ۔ میں ان کی عادت سے واقف تھا کہ یہ کسی شہر میں زیادہ دن نہیں ٹھہرتے لیکن مکہ شریف میں قیام کئے ہوئے انہیں کافی دن گزر چکے تھے ، میں نے پوچھا: '' آپ تو کسی شہر میں اتنا زیادہ رکتے ہی نہیں پھر مکۂ معظمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں اتنے دن کیوں رک گئے؟ ''
فرمایا :'' بھلامیں اس عظمتوں والے شہر میں کیوں نہ رکوں؟ میں نے کوئی ایسا شہرنہیں دیکھا جس میں مکۂ معظمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًاسے زیادہ رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہو۔ لہٰذا مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں ایسے بابرکت شہر میں ٹھہروں جہاں دن رات ملائکہ کی آمد ورفت رہتی ہے، بے شک یہاں بہت سے عجائبات ہیں۔ملائکہ مختلف صورتوں میں خانۂ کعبہ کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ اگر میں وہ تمام باتیں بتا دوں جو میں نے دیکھی ہیں تو لوگ ان پر یقین نہ کریں ۔'' میں نے کہا:'' خدارا! ان