منظر دیکھ کر مجھ پر ہَیْبَتْ طاری ہونے لگی ۔ جب اس نے محسوس کیا کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے تو نماز کو مختصرکرکے میری طرف متوجہ ہوا۔میں نے دیکھا تو فوراً انہیں پہچان لیا وہ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن سعد عَلْوِی علیہ رحمۃ اللہ القوی تھے ۔انہوں نے مجھ سے فرمایا: ''ابھی تم یہاں سے چلے جاؤ تین دن بعدآنا۔'' میں فوراً واپس چلا آیا اور حسب ِ ارشاد( حکم کے مطابق) تین دن بعد دوبارہ ساحلِ سمندر پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ میرے قدموں کی آہٹ سن کر انہوں نے نماز مختصر کی اورفراغت کے بعد میرا ہاتھ پکڑ کر سمندر کے پانی کے بالکل قریب کھڑا کردیا۔ پھر ان کے ہونٹوں نے جُنبش(یعنی حرکت) کی اور وہ آہستہ آہستہ کچھ پڑھنے لگے ، میں نے دل میں کہا:'' اگر آج یہ سمندر کے پانی پرچلے تو مجھے بھی ان کے ساتھ سمندر کے پانی پرچلنے کا موقع مل جائے گا۔''میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک سمندر کے پانی میں دو اژدھے ظاہر ہوئے ۔ وہ سراٹھائے منہ کھولے ہماری طرف بڑھنے لگے ، میں نے اپنے دل میں کہا:'' کاش !یہاں کوئی شکاری ہوتا جو انہیں پکڑلیتا۔ جیسے ہی میرے دل میں یہ خیال آیا ، فوراً وہ دونوں اژدھے پانی میں غائب ہوگئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن سعد عَلْوِی علیہ رحمۃ اللہ القوی میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: یہاں سے چلے جاؤ، ابھی تم اپنی طلب کو نہیں پہنچ سکتے۔ جاؤ، ابھی پہاڑوں میں گوشہ نشینی اختیارکرو، دنیوی زندگی کو بہت کم سمجھو اورجو کچھ مل جائے اسی پر صبر کرو یہاں تک کہ تمہیں پیغام اَجل آجائے۔ اتنا کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے وہیں چھوڑ کر ایک سمت تشریف لے گئے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)