| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
اللہ عَزَّوَجَلَّ!میں تو اپنے آقاومولیٰ محمدِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے شہر میں پہنچ چکاہوں۔''
نوجوان نے کہا:'' اب اُتر جاؤ، اور جب روضۂ رسول عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَم پر حاضری ہوتو میرا بھی باادب سلام عرض کر دینا اورکہنا:'' کہ رضوانِ جنَّت آقائے نامدار، مدینے کے تاجدار، باذن پروردگاردوعالم کے مالک ومختار عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں خوب خوب سلام عرض کرتاہے ۔'' اتنا کہہ کر وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)حکایت نمبر254: حضرت ابوذَرّرضی ا للہ تعا لیٰ عنہ کاوصالِ باکمال
حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَشْتَر علیہ رحمۃ اللہ الاکبر اپنے والدِ محترم کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ''حضرتِ سیِّدُنا ابوذَرّرضی ا للہ تعالیٰ عنہ کی زوجۂ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ ذَرّ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: جب حضرتِ سیِّدُنا ابوذَرّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ صحرائی سفر پر تھے، میں بھی ان کے ساتھ تھی ، میں رونے لگی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیوں روتی ہو؟میں نے کہا: '' آپ اس بے آب وگیاہ ویران صحراء میں انتقال کر رہے ہیں اور اس وقت نہ تو میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس سے آپ کے کفن و دفن کا انتظام ہوسکے اورنہ ہی آپ کے پاس، پھر میں کیوں نہ روؤں؟'' فرمایا:'' رونا چھوڑ، تیرے لئے خوشخبری ہے۔'' ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''کوئی بھی دو مسلمان جن کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ اس پر صبر کریں اور اجر کی امید رکھیں تو وہ کبھی بھی جہنم میں داخل نہ ہوں گے۔'' اورسرکار نامدار، مدینے کے تاجدار، باذن پروردْگار غیبوں پر خبردار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہم چند لوگوں کو مخاطب کر کے(غیب کی خبر دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ''تم میں سے ایک شخص صحراء میں مرے گااورا س کی وفات کے وقت مؤمنین کا ایک گروہ اس کے پاس پہنچے گا۔ '' (مسند احمد،حدیث ابی ذر الغفاری،الحدیث۲۱۴۳۱،ج۸،ص۶ ۸۔ الطبقات الکبرٰی لابن سعد،ابوذرجندب بن جنادۃ، الرقم۴۳۲، ج۴، ص۱۷۶)
اب ان تمام صحابۂ کرام علیہم الرضوان میں سے کوئی زندہ نہیں رہا۔ صرف میں اکیلا باقی ہوں اور ان سب کی وفات یا تو شہر میں ہوئی یا آبادی میں ۔ اور میں صحراء میں فوت ہو رہا ہوں ۔یقیناوہ شخص میں ہی ہوں ، اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!نہ میں نے جھوٹ کہااور نہ ہی مجھے جھوٹی خبر ملی ، تُو جااور دیکھ ، ضرورکوئی نہ کوئی ہماری مدد کو آئے گا۔''
میں نے کہا:'' اب توحُجّاجِ کرام بھی جاچکے اورراستہ بند ہوگیا۔''فرمایا:'' تو جاکر دیکھ تو سہی۔'' چنانچہ، میں ریت کے ٹیلے