عورت نے تم پر جو دعویٰ کیا ہے اس بارے میں کیا کہتے ہو؟'' کہا:'' یہ سچ کہتی ہے۔'' فرمایا:'' وہ تمام چیزیں جو اس سے لی گئی تھیں اسے واپس کی جائیں اورجو دیوار گرائی گئی تھی اسے فوراً تعمیر کروایاجائے ۔'' امیر نے کہا :'' ٹھیک ہے میں ابھی یہ کام کروا دیتاہوں کیااس کے علاوہ بھی کوئی دعویٰ ہے ؟'' قاضی صاحب نے اس عورت سے پوچھا:'' کیا تمہار اکوئی اوردعویٰ ہے؟'' کہا: ''ہاں! میرے فارسی خادم کا گھر بھی گرادیا گیا تھا اوراس کا سامان بھی ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ امیر نے کہا:'' میں اس نقصان کا بھی ازالہ کئے دیتاہوں۔'' قاضی صاحب نے پھر پوچھا :''کیا کوئی اوردعویٰ باقی ہے؟''عورت نے کہا :'' اب میرا کوئی دعویٰ باقی نہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو اچھی جزا عطافرمائے ۔ پھر وہ عورت دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی ۔
اب حق ظاہر ہوگیا تھااور مظلوم کو اس کا حق مل چکا تھا۔ چنانچہ، قاضی صاحب فوراََ اُٹھ کھڑے ہوئے اورامیر موسیٰ بن عیسیٰ کا ہاتھ تھام کر اپنی نشست پر بٹھا یا ، خود اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اورکہا:'' اے امیر! اے موسیٰ بن عیسیٰ!السلام علیکم،شرعی فیصلہ ہوگیا ہے ،اب آپ امیر ہیں، میرے لائق کوئی حکم ہوتو ارشاد فرمائیں ۔'' امیر موسیٰ بن عیسیٰ نے ہنستے ہوئے کہا:'' اب آپ کو کیا حکم دوں ؟ پھر اسلام کے اس عظیم قاضی کی عدالت سے چلا گیا ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)