Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
73 - 412
عورت نے تم پر جو دعویٰ کیا ہے اس بارے میں کیا کہتے ہو؟'' کہا:'' یہ سچ کہتی ہے۔'' فرمایا:'' وہ تمام چیزیں جو اس سے لی گئی تھیں اسے واپس کی جائیں اورجو دیوار گرائی گئی تھی اسے فوراً تعمیر کروایاجائے ۔'' امیر نے کہا :'' ٹھیک ہے میں ابھی یہ کام کروا دیتاہوں کیااس کے علاوہ بھی کوئی دعویٰ ہے ؟'' قاضی صاحب نے اس عورت سے پوچھا:'' کیا تمہار اکوئی اوردعویٰ ہے؟'' کہا: ''ہاں! میرے فارسی خادم کا گھر بھی گرادیا گیا تھا اوراس کا سامان بھی ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ امیر نے کہا:'' میں اس نقصان کا بھی ازالہ کئے دیتاہوں۔'' قاضی صاحب نے پھر پوچھا :''کیا کوئی اوردعویٰ باقی ہے؟''عورت نے کہا :'' اب میرا کوئی دعویٰ باقی نہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو اچھی جزا عطافرمائے ۔ پھر وہ عورت دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی ۔

    اب حق ظاہر ہوگیا تھااور مظلوم کو اس کا حق مل چکا تھا۔ چنانچہ، قاضی صاحب فوراََ اُٹھ کھڑے ہوئے اورامیر موسیٰ بن عیسیٰ کا ہاتھ تھام کر اپنی نشست پر بٹھا یا ، خود اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اورکہا:'' اے امیر! اے موسیٰ بن عیسیٰ!السلام علیکم،شرعی فیصلہ ہوگیا ہے ،اب آپ امیر ہیں، میرے لائق کوئی حکم ہوتو ارشاد فرمائیں ۔'' امیر موسیٰ بن عیسیٰ نے ہنستے ہوئے کہا:'' اب آپ کو کیا حکم دوں ؟ پھر اسلام کے اس عظیم قاضی کی عدالت سے چلا گیا ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر252:         سمند ر پر نماز پڑھنے والا عارف
    حضرتِ سیِّدُناحارِث اَوْلَاسِی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں :''ایک مرتبہ میں مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًاسے شام کی طرف روانہ ہوا ، دورانِ سفر ایک قافلہ نظر آیا میں قریب گیا تو سب لوگ کسی بات پر گفتگو کر رہے تھے میں نے سلام کیااور کہا:'' میں بھی آپ کے ہمراہ سفر کرنا چاہتاہوں ،کیا آپ مجھے اپنے ساتھ رکھنے کو تیار ہیں؟'' کہا :'' جیسے تمہاری مرضی ۔ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔'' چنانچہ، میں بھی اس قافلے میں شامل ہو گیا ۔ مسافر اپنی اپنی مطلوبہ منزل پر ٹھہرتے رہے ۔ آخر میں میرے ساتھ صرف ایک شخص بچا۔ اس نے مجھ سے پوچھا:'' اے جوان!کہاں کا ارادہ ہے ؟'' میں نے کہا:'' ملک شام میں''کو ہِ لُکَام'' میری منزل ہے ، وہاں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن سعدعَلْوِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی زیارت کے لئے جارہا ہوں۔''

     میرا وہ رفیق چند دن میرے ساتھ رہا پھر مجھ سے جدا ہوگیا۔میں اکیلا ہی سفر کرتا ہوا''اَوْلَاس''پہنچا اور سمندر کی جانب چلا گیا، وہاں کا منظر ہی عجیب تھا۔ ایک شخص سمندر کی لہروں پر اتنے سکون سے نماز پڑھ رہا تھا گویا زمین پر ہے۔ یہ عجیب وغریب
Flag Counter