ہوئے دیکھ رہا ہوں جو حق پر نہیں ۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بآواز بلند فرمایا : کیا یہاں قبیلے کے جوان موجود ہیں؟اگر ہوں تو جلدی سے آجائیں ، تھوڑی ہی دیر میں چند نوجوان آگئے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ایک ایک کاہاتھ پکڑو اورجیل پہنچا دو۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !آج کی رات یہ لوگ جیل میں گزاریں گے ۔'' کہا:'' کیاآپ سچ مچ ہمیں جیل بھجوا رہے ہیں؟'' فرمایا : ''ہاں ! واقعی میں تمہیں جیل بھجوا رہا ہوں تاکہ آئندہ تم کسی ظالم کی طرف داری کرتے ہوئے اس کا پیغام نہ لاؤ ۔''
امیر موسیٰ بن عیسیٰ کو ان کی گرفتاری کی اطلاع ملی تو بہت غضب ناک ہوا اور خود جاکرجیل کا دروازہ کھولا اور سب کو رہا کر دیا۔ صبح جب انصاف پسند ،جرأ ت مند قاضی کمرۂ عدالت میں جلوہ گرہواتو داروغۂ جیل نے گذشتہ رات کاتمام واقعہ کہہ سنایا۔ قاضی صاحب نے رجسٹر منگوا کر مہر لگائی اور تمام ریکارڈ گھر بھجواکر غلام کو سواری لانے کا حکم دیا اور کہا:'' اب ہم کو فہ میں نہیں رہیں گے ، خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !ہم نے امیر المؤمنین سے یہ عہدہ طلب نہیں کیا تھابلکہ ہمیں تو مجبور کیا گیا تھا،اورہماری حفاظت وسرپرستی کی ذمہ داری لی گئی تھی۔اب کوفہ میں انصاف قائم کرنا مشکل ہوگیا ہے لہٰذا مجھے یہ عہدہ نہیں چاہے۔یہ کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوفہ کے اس پل کی طرف چل دیئے جو بغداد جاتاتھا۔جب موسیٰ بن عیسیٰ کو قاضی صاحب کے جانے کی اطلاع ملی تو وہ فوراً آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف دوڑا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دیتے ہوئے کہا :'' اے ابو عبداللہ !رک جائیں ۔ خدارا!آپ بغداد نہ جائیں، دیکھیں
تو سہی کہ آپ نے اپنے ہی بھائیوں کو قید کردیا تھا۔'' فرمایا :'' ہاں! جب انہوں نے ایک ایسے معاملے میں دخل اندازی کی جس کی انہیں اجازت نہ تھی تو میں نے انہیں قید کردیالیکن تم نے انہیں آزاد کردیا ہے، جب تک وہ سب کے سب واپس جیل میں نہ بھیج دیئے جائیں میں ہرگز واپس نہ جاؤں گا اوربغداد جاکر امیر المؤمنین کی طرف سے دی جانے والی اس ذمہ داری سے استعفیٰ دے دوں گا ۔''
امیر موسیٰ بن عیسیٰ نے قاضی صاحب کا یہ پُر عزم فیصلہ سنا تو سپاہیوں کوحکم دیا کہ جن جن کو میں نے رِہا کیاتھا ان سب کو واپس جیل بھیج دیا جائے۔ حکم پاتے ہی سپاہی شہر کی طرف چلے گئے لیکن قاضی صاحب اسی جگہ کھڑے رہے۔ جب داروغۂ جیل نے آکر اطلاع دی کہ ان تمام کوجیل میں بھیج دیا گیا ہے تب آپ وہاں سے واپس پلٹے۔
امیر موسیٰ بن عیسیٰ نے اپنے ایک غلام سے کہا:'' قاضی صاحب کی سواری کی لگام پکڑ کر آگے آگے چلو۔ چنانچہ، وہاں موجود تمام لوگ اور امیر موسیٰ بن عیسیٰ قاضی صاحب کے پیچھے پیچھے چل دیئے۔مسجد میں پہنچ کر قاضی صاحب نے مجلسِ قضا قائم کی امیر موسیٰ بن عیسیٰ کو مظلوم عورت کے برابر کھڑا کیا اور عورت سے فرمایا :'' جس پر تم نے دعویٰ کیا تھا وہ تمہارے سامنے موجود ہے۔ امیر موسیٰ بن عیسیٰ نے کہا:'' اے انصاف پسندقاضی! اب میں خود حاضر ہوں لہٰذا میری وجہ سے قید کئے جانے والوں کو آزاد کیا جائے۔'' فرمایا:'' ہاں! اب انہیں آزاد کیا جا تاہے۔'' یہ کہہ کر ان کی رِہائی کا پروانہ جاری کر دیا اورفرمایا:'' اے موسیٰ بن عیسیٰ!اس