Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
71 - 412
دیا،اس نے کل رات پانچ سو آدمی بھیج کر اس دیوار کو گروا دیا، میں نے صبح جاکر دیکھاتو دیوار بالکل ختم کردی گئی تھی اوراب میرے اورمیرے بھائیوں کے درختوں میں کوئی نشانی باقی نہ رہی۔ خدارا!مجھے انصاف دِلائیے۔''

    اس مظلومہ کی فریاد سن کر وہ عظیم قاضی بے تاب ہوگیا اورخادم کو حکم فرمایا: مِٹی اورمُہر لاؤ ۔ پھر مُہر لگا کر حکم نامہ اس عورت کے سپرد کر دیا اور کہا:''تم امیر موسیٰ بن عیسیٰ کے پاس جاؤ اوریہ حکم نامہ دے کر کہو کہ قاضی صاحب کی عدالت میں حاضر ہوجاؤ ۔ '' چنانچہ، وہ عورت حکم نامہ لے کر موسیٰ بن عیسیٰ کی رہائش گاہ پر پہنچی اوراس کے دربان کو قاضی صاحب کا پیغام دیا ۔ دربان حکم نامہ لے کر موسیٰ بن عیسیٰ کے پاس گیا اورکہا:'' آپ کے خلاف قاضی شَرِیک کی عدالت میں دعویٰ کیا جاچکاہے ، آپ کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے ،یہ دیکھئے! قاضی صاحب کی طرف سے مُہر شدہ حکم نامہ آیا ہے ۔'' موسیٰ بن عیسیٰ نے دربان سے کہا :'' جاؤ اور شہر کے پولیس آفیسر کوہمارے پاس بلالاؤ ۔ جب پولیس افسر آیا تو کہا :''تم قاضی شَرِیک کے پاس جاؤ اورکہو کہ تم سے زیادہ عجیب معاملہ میں نے کسی کا نہیں دیکھا۔ایک عورت نے مجھ پر ناحق دعویٰ کیا اورتم اس کے دعوے پر مجھے عدالت میں طلب کرکے اس کی مدد کررہے ہو۔''پولیس آفیسر نے ڈرتے ہوئے کہا:'' حضور مجھے اس معاملے سے دور ہی رکھیں توبہترہوگا ۔ امیر نے غضب ناک ہو کر کہا:''جاؤ اورہمارے حکم پر عمل کرو ۔''

    مجبوراً اسے جانا ہی پڑا ۔ جاتے ہوئے اس نے اپنے غلاموں سے کہہ دیا کہ میرے لئے جیل میں بستر وغیرہ کا انتظام کر دو۔ آج میں ضرور جیل بھیج دیا جاؤں گا ۔ پولیس افسر کو معلوم تھا کہ اسلام کا یہ انصاف پسند قاضی ایک مجرم کا پیغام لانے پرمجھے ضرور قید میں ڈال دے گا ۔ جب پولیس آفیسر نے قاضی شَرِیک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو امیر موسیٰ بن عیسیٰ کا پیغام دیاتو قاضی صاحب نے سپاہی کو حکم دیا :'' اسے گرفتار کرکے قید خانے میں ڈال دو۔'' افسر نے کہا:'' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! مجھے معلوم تھا کہ آپ ایسا ہی کریں گے، اس لئے جیل میں جانے کے لئے پہلے ہی انتظام کر کے آیاہوں۔''جب امیر موسیٰ بن عیسیٰ کو اپنے پولیس آفیسر کی گرفتاری کی خبر پہنچی تو اس نے دربان کو بلا کر قاضی صاحب کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا : ''آپ نے ہمارے قاصد کو گرفتار کرلیا، اس نے تو صرف پیغام پہنچایا تھا، اس کا قصورکیا ہے؟'' پیغام پاکر قاضی صاحب نے حکم دیا کہ اسے بھی اس کے ساتھی کے پاس پہنچا دو۔ 

    چنانچہ، اسے بھی قید کرلیا گیا ۔ موسیٰ بن عیسیٰ کو اپنے دربانِ خاص کی گرفتاری کی اطلاع بھی پہنچ گئی ۔ اس نے عصر کی نماز کے بعد کوفہ کے با اثر اورنمایاں لوگوں کے گروہ جن میں قاضی صاحب کے دوست اِسحاق بن صَبَّاح اَشْعَثِی بھی شامل تھے، کو پیغام بھیجا کہ جاؤ قاضی صاحب کو میرا سلام کہنا اور انہیں آگاہ کردینا کہ آپ نے میری بے عزَّتی کی ہے ،میں کوئی عام آدمی نہیں۔ کوفہ کے بااثر لوگوں کی یہ جماعت قاضی صاحب کے پاس آئی، تو انھیں مسجد میں پایا ۔ان لوگوں نے سلام وآداب کے بعد امیر کا پیغام سنانا شروع کیا۔ جیسے ہی ان کا کلام ختم ہوا۔ فرمایا :'' کیا بات ہے کہ میں تمہیں ایک ایسے شخص کی طرف داری میں کلام کرتے