Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
70 - 412
میں کہنے لگا میری وجہ سے انہیں بہت تکلیف ہورہی ہے ۔ اے کاش !میں ان کا رفیقِ سفر نہ بنتامگر اب مجبور ہوں، کیاکروں۔

    سفر طے ہوتا رہا اوروہ ولئ کامل ہر طرح سے میری خاطر مدارات کرتے رہے۔ پھر ایسا ہوا کہ دوران سفر ہمیں بارش نے آ لیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: اے ابو احمد( رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ) ! میل (یعنی راستے کی پہچان کیلئے بنائے ہوئے نشانات)تلاش کرو ،جب ہم میل (نشان ) کے قریب پہنچ گئے تو مجھے چھوٹی سی بُرجی(یعنی گنبد یا ستون) کی آڑ میں بٹھایا اورخود مجھ پر چادر تان کر کھڑے ہو گئے۔ میرے منع کرنے کے باوجود خود سخت سردی میں بھیگتے رہے لیکن مجھے نہ بھیگنے دیا۔ میں کچھ عرض کرتا تو فرماتے ،میں تمہارا امیر ہوں اورہم نے یہ بات طے کرلی تھی کہ تم میرے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروگے ، لہٰذا جو میں کہوں تمہیں اس پر عمل کرنا ہوگا۔ اب میں ان کی رفاقت پر بہت پچھتارہا تھا کہ میری وجہ سے انہیں کتنی دشواری ہورہی ہے۔ اے کاش!میں ان کا رفیق نہ بنا ہوتا ۔ الغرض بغداد شریف سے مکۂ معظمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًاتک وہ نیک خصلت ولئ کامل میری ہر طرح سے خاطر مدارات کرتے رہے یہاں تک کہ ہم مکہ معظمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا میں داخل ہوگئے۔''

    (اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اوران کے صدقے ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی خوب خو ب خدمت و خیر خواہی کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔'')

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر251:            حق فیصلے کی زبردست مثال
    حضرتِ سیِّدُناعمر بن ہَیَّاج بن سعید علیہ رحمۃ اللہ الوحید سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ اسلام کے نامور قاضی حضرتِ سیِّدُنا شَرِیک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کمرۂ عدالت میں مسند ِ قضا پر جلوہ فرما تھے ، اتنے میں ایک عورت حاضرِ خدمت ہوئی اوراس طرح فریاد کی : ''میں پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتی ہوں پھر قاضی کی، مجھ مظلومہ کو میرا حق دِلوایا جائے۔'' قاضی شَرِیک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس عورت کی فریاد سن کر بے چین ہوگئے اورفرمایا:'' بلا جھجک بتاؤ، تم پر کس نے ظلم کیاہے ؟'' کہا:'' امیر موسیٰ بن عیسیٰ نے۔ دریائے فرات کے کنارے میرا کھجوروں کا ایک باغ ہے جو ہمیں وراثت میں ملا ہے، میں نے اپنے بھائیوں سے اپنا حصہ علیحدہ کرکے درمیان میں دیوار تعمیر کروادی اورایک فارسی شخص کو اس کی نگہبانی کے لئے مقرر کردیا۔امیر موسیٰ بن عیسیٰ نے میرے بھائیوں سے ان کے حصہ کا تمام باغ خریدلیا، پھر اس نے مجھے بھی اپنا حصہ بیچنے کو کہا اورخطیر(بہت)رقم کا لالچ دیا ،میں نے اپنا حصہ بیچنے سے انکار کر
Flag Counter