| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
کے ساتھ میں بھی رو دیا۔ ان کا سانس گُھٹ گُھٹ کر آرہا تھا ، بڑی بے کسی کا عالم تھا ۔ میری والدہ نے کہا : '' اے میرے بھائی!کاش میری ماں نے تجھے نہ جناہوتا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آپ کی تکلیف وغم دیکھ کر میرا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے ۔'' میری والدہ کی یہ بات سن کر ماموں جان نے کہا:'' اے کاش !ایسا ہی ہوتا کہ تیری ماں مجھے نہ جنتی، اورجب میں پیدا ہوہی گیا تھا تو کاش ! وہ مجھے دودھ ہی نہ پلاتی۔''
حضرت سیِّدُناعمر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' میری والدہ میرے ماموں کی حالت دیکھ کر دن رات روتی رہتی تھی۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)حکایت نمبر250: امیرِ قافلہ ہو توایسا۔۔۔۔۔۔!
حضرتِ سیِّدُنامُصْعَب بن احمد علیہ رحمۃ اللہ الصمد فرماتے ہیں: ایک مرتبہ زمانے کے مشہور ولی حضرتِ سیِّدُنا ابو محمد عبداللہ رِبَاطَی علیہ رحمۃ اللہ الکافی بغداد تشریف لائے، ان کا مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا جانے کا ارادہ تھا۔ کافی عرصہ سے میری خواہش تھی کہ ان کی رفاقت میں سفرِ حرمینِ شریفین کیا جائے۔ اب موقع اچھا تھا میں فوراً آپ کی بارگاہ میں حاضرہو گیا اورعرض کی: ''حضور! مجھے اپنی رفاقت میں سفر کرنے کی اجازت عطافرما دیں۔'' مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سال مجھے اپنی رفاقت عطا نہ فرمائی۔ دوسرے سال بھی مجھے یہ سعادت نصیب نہ ہوسکی۔تیسرے سال میں پھرحاضر ہوا اوراپنی خواہش کا اظہار کیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ''اس شرط پر تم میرے ساتھ سفرکرسکتے ہوکہ ہم میں سے ایک امیر ہوگا اور اس کی اطاعت لازم ہو گی ۔ میں نے بخوشی یہ شرط قبول کرلی اورکہا: حضور آپ امیرہیں۔ فرمایا:'' نہیں، بلکہ تم امیر ہو۔''میں نے پھر عرض کی: ''حضور آپ کا مقام ومرتبہ بڑا ہے لہٰذا آپ ہی امیرہیں ۔''فرمایا:'' ٹھیک ہے ،میں ہی امیر ہوں لیکن میری نافرمانی نہ کرنا۔'' میں نے کہا:'' ٹھیک ہے میں ہرگز آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔''
پھر میں اس ولئ کامل کے ہمراہ سوئے حرم چل دیا ۔ جب کھانے کا وقت ہوا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے بٹھایا اور خود بڑی عاجزی وانکساری کے ساتھ میرے لئے کھانا لائے ۔ میں نے چاہا کہ انہیں روکوں اور ان کی خدمت کروں لیکن معاملہ برعکس تھا۔ وہ مجھے بہت زیادہ تعظیم دے رہے تھے ۔ میں جب بھی انہیں روکنا چاہتا تو فرماتے: کیا تم نے یہ شرط منظور نہ کی تھی کہ تم حکم عدولی نہیں کروگے ؟''اسی طرح وہ میرا سب کام کرتے رہے ۔ میرا ساراسامان بھی انہوں نے اٹھائے رکھا ۔ اب میں دل