والے ، فضول خرچ اورجلد باز نہیں۔ دنیا پیٹھ پھیر چکی، اور آخرت بالکل سامنے ہے ۔ دنیا اورآخرت دونوں کےمُحِبِّیْن( یعنی محبت کرنے والے) موجودہیں۔ تم آخرت چاہنے والوں میں ہونا، دنیاکے عاشق ہرگزنہ بننا۔ جو لوگ دنیا سے بے رغبت ہوچکے ہیں انہوں نے زمین کو چٹائی، مٹی کو بچھونا اور پانی کو خوشبوبنالیا۔ جو شخص جنت کا مشتاق ہے وہ شہوات سے بچتا ہے،جوجہنم کی آگ سے خوفزدہ ہے وہ ہمیشہ حرام چیزوں سے بچتاہے ، اورجو دنیا سے بے رغبت ہوجائے مصیبتیں اس پر آسان ہوجاتی ہیں۔
خوب توجہ سے سنو ! بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ ایسے خوش نصیب بندے ہیں گویا وہ اہلِ جنت کو اس کی دائمی نعمتوں میں اور جہنمیوں کو آگ کے عذاب میں دیکھ رہے ہیں ۔ یہ لوگ فتنہ وفساد نہیں پھیلاتے ۔ لوگ ان کی طرف سے امن میں ہیں۔ ان کے دل غموں سے پُر ہیں اوریہ پاک دامن ونیک سیرت لوگ ہیں ۔ ان کی حاجات بہت کم ہیں،یہ آخرت کی طویل راحت کی خاطر دنیا کی چند روزہ مصیبتوں پر صبر کر لیتے ہیں۔ان کی رات اس طرح گزرتی ہے کہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں بحالت قیام کھڑے رہتے ہیں،آنسوان کے رخساروں پربہتے ہیں اوریہ گڑگڑا کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو یوں پکارتے ہیں :'' اے ہمارے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ ! ہمیں جہنم کی آگ سے محفوظ رکھ، اس کی قید سے بچا۔'' جب دن ہوتاہے تو یہ بہترین علماء ، بردبار، نیکو کار اور لوگوں کے راہنما ہوتے ہیں ، ان کی جسمانی حالت ایسی ہوتی ہے کہ دیکھنے والا ان کو بیمار سمجھتا ہے حالانکہ انہیں کوئی بیماری نہیں ہوتی، لوگ انہیں مجنون سمجھتے ہیں ، حالانکہ آخرت کے عظیم دن کے خوف سے ان کے ہوش اُڑجاتے ہیں اور ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)