رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابو عبدالرحمن فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے فرمایا:'' اے شیخ! یہ گھر تمہارا نہیں ہے ۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: '' میرا نام فَرُّوخ ہے اوریہ میرا ہی گھر ہے۔'' یہ سن کر آپ کی زوجۂ محترمہ جو دروازے کے پیچھے ساری گفتگو سن رہی تھیں، باہر آئیں اورکہا:''یہ میرے شوہر ہیں اورربیعہ ان کا بیٹا ہے ۔ جس وقت یہ جہاد پر گئے تھے توربیعہ میرے پیٹ میں تھا۔'' یہ سن کر دونوں باپ بیٹے گلے ملے اور ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے ۔حضرتِ سیِّدُنا ابو عبدالرحمن فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خوشی خوشی گھر میں داخل ہوئے اورخوش ہوتے ہوئے اپنی زوجۂ محترمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا سے پوچھا:''یہ میرا بیٹا ہے؟''انہوں نے فرمایا: ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ !یہ تمہاراہی بیٹاہے۔''
پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:''اچھا وہ تیس ہزار دینارکہاں ہیں جو میں چھوڑ کر گیا تھا؟'' عرض کی:'' وہ میں نے ایک جگہ دفنا دئیے تھے، کچھ دن بعدنکال لوں گی۔''پھر حضرت سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد چلے گئے اوراپنے حلقۂ درس میں بیٹھ گئے۔ حضرت سیِّدُنا مالک بن انس ، حسن بن زید،ابن ابی علی لَہَبِی، مُسَاحِقِی اورمدینہ شریف کے دوسرے معزز حضرات رحمہم اللہ تعالیٰ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اردگردبیٹھ گئے ۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ درسِ حدیث دینے لگے۔
حضرتِ سیِّدُنا فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ گھرہی میں تھے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زوجۂ محترمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے کہا:'' آپ مسجد نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں جاکر نماز ادا فرمالیں ۔'' چنانچہ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد میں گئے تو دیکھا کہ ایک حلقہ لگا ہوا ہے اورلوگ بڑے ادب وتوجہ سے علمِ دین سیکھ رہے ہیں اورایک خوبرونوجوان انہیں درس دے رہا ہے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قریب گئے تو لوگوں نے آپ کے لئے جگہ کشادہ کی۔آپ بیٹھ گئے۔ حضرتِ سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنا سر تھوڑا نیچے کرلیا۔حضرتِ سیِّدُنا ابوعبدالرحمن فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کو پہچان نہ سکے ۔آپ نے لوگوں سے پوچھا:'' یہ کون صاحب ہیں، جو علم کے موتی لٹا رہے ہیں؟'' لوگوں نے بتایا:''یہ ربیعہ بن ابوعبدالرحمن ہیں ۔'' یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بے حد خوش ہوئے اور فرمایا:'' اللہ ربُّ العزَّت نے میرے بیٹے کو کیسا عظیم مرتبہ عطافرمایا۔'' پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خوشی خوشی گھر تشریف لائے اور اپنی زوجہ سے فرمایا:''میں نے تمہارے لختِ جگر کو آج ایسے عظیم مرتبے پر فائز دیکھا کہ اس سے پہلے میں نے کسی علم والے کو ایسے مرتبے پر نہیں دیکھا۔ وہ تو علم کے موتی لٹانے والا سمندر ہے۔''
آپ کی زوجۂ محترمہ نے کہا :'' آپ کو اپنے تیس ہزار دینار چاہیں یا اپنے بیٹے کی یہ عظمت ورفعت ۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:'' خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھے تو اپنے بیٹے کی اس عظیم نعمت کے بدلے کچھ بھی نہیں چاہے۔ ''آپ کی زوجۂ محترمہ نے کہا:'' تو پھر سنئے! میں نے وہ تمام مال تمہارے بیٹے پر خرچ کر کے اسے علمِ دین سکھایا۔ ''یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: '' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم!تم نے مال ضائع نہیں کیا بلکہ بہت اچھی جگہ خرچ کیاہے ۔''