Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
55 - 412
    پھر حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی نے فرمایا:'' بات دراصل یہ ہے کہ وہ عورت احکامات الٰہیہ عَزَّوَجَلَّ کو پورا کرنے والی تھی اورجو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے احکامات پر عمل پیرا ہو اسے کوئی ایسا حادثہ پیش نہیں آتا جسے وہ نہ جانتا ہو۔ جب اس عورت کا بیٹا ڈوباتو اسے معلوم نہ تھا ، اس لئے اسے یقین نہ آیا اور اس نے کہا: بے شک میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے ایسا نہیں کیا۔ اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات پر یقینِ کامل تھا۔ اس لئے اس کا بیٹا اسے واپس کردیاگیا۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر237:         ستائیس سال مسلسل جہاد کرنے والا
    حضرتِ سیِّدُنا عبدالوَھَّاب بن عَطَاء خَفَّاف علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق سے مروی ہے کہ'' مجھے مدینۂ منورہ
زَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا
کے مشائخ نے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا ابو عبدالرحمن فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بنو اُمیہ کے دورِ خلافت میں سرحدوں کی حفاظت کے لئے خُرَاسَان گئے ۔ آپ کی زوجۂ محترمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا اُمید سے تھیں اورآپ کا بیٹاربیعہ ماں کے پیٹ میں تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی زوجہ کے پاس تیس(30)ہزار دینارچھوڑکر گئے ۔ ستائیس سال بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ واپس مدینۂ منورہ
زَادَہَااللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا
آئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ہاتھ میں نیزہ تھا اورآپ گھوڑے پر سوار تھے ۔ گھر پہنچ کر نیزے سے دروازہ اندر دھکیلا تو حضرتِ سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ باہر نکلے۔ جیسے ہی انہوں نے ایک مسلَّح شخص کو دیکھا تو بڑے غضب ناک انداز میں بولے :'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے! کیا تو میرے گھر پر حملہ کرنا چاہتاہے ؟''

    حضرتِ سیِّدُنافَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' نہیں ، میں حملہ نہیں کرنا چاہتا۔ تم یہ بتاؤ کہ تمہیں میرے گھر میں داخل ہونے کی جراء َت کیسے ہوئی۔'' پھر دونوں میں تلخ کلامی ہونے لگی ۔قریب تھا کہ دونوں دست وگریبان ہوجاتے۔ لیکن ہمسائے بیچ میں آگئے اور لڑائی نہ ہوئی ۔ جب حضرت سیِّدُنا مالک بن اَنس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اوردوسرے بزرگ حضرات کو خبرہوئی تو وہ فوراً چلے آئے ۔لوگ انہیں دیکھ کر خاموش ہو گئے۔ حضرت سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس شخص سے کہا:'' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں اس وقت تک تمہیں نہ چھوڑوں گا جب تک تمہیں سلطان کی عدالت میں نہ لے جاؤں ۔'' 

     حضرتِ سیِّدُنا فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا: ''خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں بھی تجھے سلطان کی عدالت میں لے جائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ایک تو تم میرے گھر میں بلا اجازت داخل ہوئے اورپھر مجھی سے جھگڑا کر رہے ہو۔'' حضرت سیِّدُنا مالک بن انس
Flag Counter