| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
مبتلا ہوں ۔'' عورت نے کہا:''وَاللہ عَزَّوَجَلَّ!میں تیری حالت سے اچھی طرح خبردار ہوں ،لیکن میں اپنے نفس کے ہاتھوں مجبو ر ہو کریہاں آئی ہوں، میں خوب جانتی ہوں کہ اتنا معمولی سا تعلق بھی لوگوں کے نزدیک بہت بڑا ہے ، تجھ جیسے نیک خصلت اور پاکیزہ لوگ آئینہ کی مثل ہوتے ہیں کہ ادنی سی غلطی بھی ان کو عیب دار بنادیتی ہے ۔لیکن کیا کروں میں اس معاملے میں بے بس ہوں، میرے دل کا حال یہ ہے کہ ہروقت تیری یاد میں تڑپتا ہے اورمیرے جسم کے تمام اعضاء تیری ہی طرف متوجہ ہیں۔'' نوجوان اس کی یہ گفتگو سن کر کچھ کہے بغیر اپنے گھر کی جانب چلا گیا۔ گھر جاکر اس نے نماز پڑھناچاہی لیکن اسے خشوع وخضوع حاصل نہ ہوسکا ۔ بالآخر اس نے ایک خط لکھا اور باہر آیاتو دیکھا کہ وہ عورت اسی جگہ کھڑی ہے ۔ نوجوان نے جلدی سے خط اس کی طرف پھینکا اور واپس چلا گیا۔عورت نے خط اٹھایا اور بے تاب ہوکر پڑھنے لگی تو اس میں لکھا تھا:
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم،
''اے عورت !یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلے کہ بندہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرتاہے تو وہ اس سے درگزر فرماتاہے۔ جب دوبارہ گناہ کرتاہے تو اس کی پردہ پوشی فرماتاہے لیکن جب بندہ اتنا نافرمان ہوجاتاہے کہ گناہوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے سخت ناراض ہوتاہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی کو زمین وآسمان ،پہاڑ،جانور،شجر وحجر کوئی بھی چیز برداشت نہیں کرسکتی پھر کس میں ہمت ہے کہ وہ اس کی ناراضگی کا سامنا کرے۔اے عورت !اگر تو اپنے بیان میں جھوٹی ہے تو میں تجھے وہ دن یاد دلاتاہوں کہ جس دن آسمان پگھل جائے گااورپہاڑ روئی کی طرح ہوجائیں گے ، اورتمام مخلوق اللہ جبَّار و قہّار کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں تو اپنی اصلاح میں کمزور ہوں پھر بھلا میں دوسروں کی اصلا ح کیسے کرسکتاہوں ؟اوراگر تو اپنی باتوں میں سچی ہے اورواقع تیری کیفیت وہی ہے جو تو نے بیان کی، تو میں تجھے ایک ایسے طبیب کا پتہ بتاتاہوں جواُن دلوں کا بہترین علاج جانتاہے جو مرضِ عشق کی وجہ سے زخمی ہوگئے ہوں اوران زخموں کا علاج کرنا بھی خوب جانتاہے جو رنج واَلم کی بیماری میں مبتلا کردیتے ہیں۔ جان لے! وہ طبیب ِحقیقی ،اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے، تو سچی طلب کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہو جا۔ بے شک میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کی وجہ سے تجھ سے تعلق نہیں رکھ سکتا:وَ اَنۡذِرْہُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَۃِ اِذِ الْقُلُوۡبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کَاظِمِیۡنَ ۬ؕ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنْ حَمِیۡمٍ وَّ لَا شَفِیۡعٍ یُّطَاعُ ﴿ؕ18﴾یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوۡرُ ﴿19﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے غم میں بھرے اور ظالموں کانہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کاکہامانا جائے اللہ جانتاہے چوری چھپے کی نگاہ اورجوکچھ سینوں میں چھپاہے۔(پ24،المؤمن:18۔19)
رکھو۔ جہاں تم دیکھو کہ خرچ کرنا مناسب ہے بلا جھجک خرچ کرنا اورجو تمہیں مستحق نظر آئے اسے دے دینا ۔ '' چنانچہ، میں نے تجارت شروع کردی۔جتنا نفع ہوتا میں اس میں سے نصف اسے بھجوا دیتا اوروہ اتنا ہی مال مزید اس میں شامل کر کے واپس میری طرف بھیج دیتا ۔ اسی طرح کئی سال گزرگئے۔ معاہدے کا آخری سال آیا تو وہ تاجر میرے پاس آیا اورکہا :''میں اکثر سمندری سفر میں رہتاہوں ۔ بے شک مجھے بھی موت آنی ہے جو وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مقرر کیا ہے وہ ضرور مجھ پر بھی آئے گا۔یہ سارا مال تم رکھ لو، اس میں سے صدقہ کرو،مساجد بناؤ اورخیر کے کاموں میں خرچ کرو۔'' اتنا کہا اوربے انتہا مال چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ بس اس طرح میرے پاس یہ سارا مال آیااورمیں اسے ایسے ہی نیک کاموں میں خرچ کرتاہوں ۔سارا واقعہ سنانے کے بعد حضرتِ سیِّدُنا دَعْلَج بن احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' اے ابو موسیٰ !جب تک میں زندہ رہوں تب تک یہ بات کسی کو نہ بتانا۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)