Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
44 - 412
    اے عورت!جب یہ معاملہ ہے تو خود سوچ لے کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے اورراہِ فرار کیوں کر ممکن ہے؟عورت نے خط پڑھ کر اپنے پاس رکھ لیا۔ کچھ دنوں بعد پھر اسی راستے پر کھڑی ہوگئی ۔ جب نوجوان کی نظر اس پر پڑی تو وہ واپس اپنے گھر کی طرف جانے لگا۔ عورت نے پکار کر کہا:'' اے نوجوان!واپس نہ جا، اس ملاقات کے بعد پھر کبھی ہماری ملاقات نہ ہوگی، سوائے اس کے کہ بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ہماری ملاقات ہو۔اتنا کہہ کر وہ زور زور سے رونے لگی ۔اور روتے ہوئے کہنے لگی: ''جس پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ کے دستِ قدرت میں تیرے دل کے اختیارات ہیں، میں اسی سے سوال کرتی ہوں کہ تیرے بارے میں مجھ پر جو معاملہ مشکل ہوگیا ہے وہ اسے آسان فرمادے۔''پھر وہ عورت نوجوان کے قریب آئی اوربولی:'' مجھ پر احسان کر اور کوئی ایسی نصیحت کر جس پر عمل کرسکوں۔ باحیا نوجوان نے سرجھکائے نگاہیں نیچی کئے جواب دیا: خود کو اپنے نفس سے باز رکھ، نفس کی خواہشات سے بچ ۔ میں تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان یاد دلاتاہوں:
وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمۡ بِالنَّہَارِ
ترجمۂ کنزالایمان:اوروہی ہے جورات کوتمہاری روحیں قبض کرتاہے اورجانتاہے جو کچھ دن میں کماؤ۔ (پ7،الانعام:60)
     یہ آیتِ کریمہ سن کر عورت نے اپنا سر جھکا لیا اورپہلے سے بھی زیادہ زور زورسے رونے لگی۔ جب کچھ افاقہ ہوا تو دیکھا کہ نوجوان جاچکا تھا۔ وہ اپنے گھر چلی آئی اور پھر عبادت وریاضت کو اپنا مشغلہ بنالیا۔اورہروقت یادِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مشغول رہنے لگی۔جب بھی نوجوان کی یاد آتی اس کاخط منگوا کر آنکھوں سے لگا لیتی ۔ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا :'' تجھے اس طرح کرنے سے کیا ملتاہے ؟'' کہا:'' کیا کروں ،کیا میرے لئے اس کے علاوہ بھی کوئی علاج ہے ؟''وہ دن بھر یادِ الٰہی عَزَّوَجَلّ میں مصروف رہتی۔ جب رات ہوجاتی تو نوافل میں مشغول ہوجاتی اوربالآخر اسی طرح عبادت وریاضت کرتے کرتے اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئی ۔''

     یہ بھی منقول ہے کہ وہ عورت ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہوگئی جس کی وجہ سے اس کے جسم سے متاثرہ حصہ کاٹ دیا جاتا۔ ورنہ وہ بیماری پورے جسم میں پھیل جاتی ۔ طبیب اس کے جسم سے گوشت کاٹتے تو عورت کو بہت تکلیف ہوتی اوروہ انہیں روک دیتی لیکن جب اس کے سامنے نوجوان کا ذکر کیا جاتا تو اسے تکلیف محسوس نہ ہوتی اورطبیب آرام سے اس کا گوشت کاٹ لیتے ۔بالآخر اسی بیماری میں اس کی موت واقع ہوگئی۔
Flag Counter