| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اور کوئی جان بے حکمِ خدامرنہیں سکتی سب کاوقت لکھا رکھاہے۔ (پ4، اٰلِ عمران:145)
دیکھتے ہی دیکھتے اس عظیم مجاہد نے دریا عبور کرلیا۔ اس کے پیچھے پیچھے تمام لشکر نے اپنی اپنی سواریاں دریا میں اتار دیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے سب لشکر بمعہ سازوسامان صحیح وسالم دوسرے کنارے پر پہنچ گیا۔ یہاں تک کہ کسی کی رسی یا ایک تیر بھی گم نہ ہوا۔ جب دشمن نے ہمیں دیکھا توان کاپورا لشکر بغیر جنگ کئے بہت سارا مالِ غنیمت چھوڑ کر بھاگ گیا۔لشکرِ اسلام میں سے ہر مجاہد کو تیرہ تیرہ جانور اوربہت سے سونے چاندی کے برتن ملے۔ بغیر جنگ کئے مسلمانوں کو یہ عظیم فتح حاصل ہوئی اورمالِ غنیمت بھی بے انتہا ملا۔
؎ دشت تودشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے بحرِظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)حکایت نمبر227: باحیا نوجوان
حضرتِ سیِّدُنا احمد بن سعید علیہ رحمۃ اللہ المجید اپنے والد ِ محترم سے نقل کرتے ہیں: ''کوفہ میں ایک عبادت گزار،خوبصورت ونیک سیرت نوجوان رہتا تھا ۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت مسجد میں گزارتااورہر وقت یادِالٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مشغول رہتا ۔ ایک مرتبہ ایک حسین وجمیل اورعقل مند عورت نے اسے دیکھ لیا۔ دیکھتے ہی اس پر عاشق ہوگئی اوراسی کے خیال میں گم رہنے لگی۔ بالآخرجب اس کی محبت شدت اختیار کرگئی تو وہ راستے میں کھڑی ہوگئی۔ کچھ دیر بعد وہ عبادت گزار نوجوان مسجد کی طرف جاتا دکھائی دیا۔ وہ اس کی طرف لپکی اورکہا : '' اے نوجوان!میں تجھ سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں، میری بات سن لو، پھر جو چاہے کرنا ۔''اس شرم وحیا کے پیکر نوجوان نے جب ایک غیر محرم اجنبیہ عورت کی آواز سنی تو اس طرف بالکل متوجہ نہ ہوا اور نگاہیں جھکائے تیزی سے مسجد کی طرف بڑھ گیا۔''
جب مسجد سے گھر کی طرف آنے لگا تو وہی عور ت ملی اور کہنے لگی: ''اے نوجوان ! میری بات سن! میں تجھ سے کچھ کہناچاہتی ہوں ۔''نوجوان نے نگاہیں جھکائے جواب دیا:''یہ تہمت کی جگہ ہے، میں نہیں چاہتا کہ لوگ مجھ پر تہمت لگانے میں