Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
401 - 412
خوب عبادت کرمیں تیرے بدن کی سلامتی چاہتاہوں او رمجھے کوئی غرض نہیں ۔تُومیری بات مان لے۔''

     بیٹے نے کہا: ''میں چنددن کے لئے سفرپرجاؤں گااورجلدہی بہت زیادہ نفع لے کرآؤں گا۔''یہ کہہ کربڑھئی دوبارہ سفر پرروانہ ہوگیا۔ جب واپس آیاتواس کے پاس پہلے سے کئی گنازیادہ مال تھا۔بڑھئی نے اپنے باپ سے کہا:'' کیاخیال ہے اگر میں نے آپ کی بات مانی ہوتی توکیاآج مجھے اتنی دولت ملتی ؟''باپ نے کہا :'' میر ے بچے!میں دیکھ رہاہوں کہ تُواپنے غیرکے لئے محنت وکوشش کررہاہے ،اگرتُوجانتااورحقیقتِ حال سے واقف ہوتاتوخواہش کرتاکہ:'' ا ے کاش! میرے اورمیرے اس مال کے درمیان مشرق ومغرب جتنافاصلہ ہوتا۔''بیٹے نے کہا:''اباجان!آپ یہ ساری باتیں ایک ستارہ شناس کے قول کی وجہ سے کر رہے ہیں۔میرا گُمان ہے کہ اس کایہ قول کہ'' مجھے مال ملے گا'' درست ہے اوریہ قول درست نہیں کہ ''میں غرق ہو کر مروں گا'' ۔'' یہ کہہ کربڑھئی نے دوسری کشتی بنانے کاحکم دیا۔چالیس دن میں اس کاسامانِ تجارت با لکل تیار ہو گیاتواس کے باپ نے کہا: ''میرے بیٹے !اس مرتبہ بھی مِنَّت سماجت کرناتجھے نہ روک سکے گاکیونکہ میں نے ایسی نشانیاں دیکھ لی ہیں کہ جن کی وجہ سے میرے نزدیک ستارہ شناس کی بات سچ ہوگئی ہے ۔''اتناکہہ کربوڑھاباپ اپنے بیٹے کی جدائی پرزاروقطاررونے لگا توبیٹے نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے آپ پرفداکرے! صرف اس مرتبہ اورصبرکرلیں۔خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے صحیح و سالم واپس لوٹادیاتوزندگی بھرکبھی بھی بحری سفرنہ کروں گا۔''بوڑھے باپ نے کہا:''خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!مجھے یقین ہوچلا ہے کہ اب تُوضائع ہوجائے گا۔خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!اس مرتبہ توواپس نہیں آئے گا۔یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔'' پھر بوڑ ھے باپ نے اس کی مِنَّت سماجت کی اورخوب روروکرسمجھایامگر اس نے اپنے بوڑھے باپ کی باتوں پرکوئی توجہ نہ دی اوردونوں کشتیوں کولے کر سفرپرروانہ ہوگیا۔جب کشتیاں بیچ سمندرمیں پہنچیں تواچانک طوفان آگیااوردونوں کشتیا ں آپس میں ٹکرا کر تباہ وبرباد ہوگئیں ۔ غرق ہوتے وقت تاجرکواپنے باپ کی باتیں یاد آرہی تھیں وہ سوچ رہاتھاکہ میں نے ا پنے باپ کی نافرمانی کیوں کی ؟لیکن اب معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل چکاتھااس طرح وہ اوراس کے تمام ساتھی مع سازوسامان سمندرمیں غرق ہو کر موت کے گھاٹ اتر گئے۔

    پھر اس کابوڑھا باپ بھی چندہی دنوں میں بیٹے کی جدائی کے غم میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔بڑھئی کی ساری دولت اس کی زوجہ،بیٹی اوربیٹے میں تقسیم ہو گئی۔اس کی زوجہ نے دوسری شادی کرلی ، بیٹی اوربیٹے کی بھی شادی ہو گئی۔اوراب بڑھئی کے مال میں اس کی زوجہ(جوکہ بیوہ ہوچکی تھی) اس کانیاشوہر،اس کی بیٹی کاشوہر اور اس کے بیٹے کی بیوی بھی شریک ہوگئی ۔ہروہ مال جسے بدبخت لوگ جمع کرتے ہیں اس کا یہی انجام ہوتاہے۔''

    راہب نے کہا:''مجھے ان لوگوں پرشدیدتعجب ہوتاہے جواپنے جسم سے بخل کرتے اوردوسروں پرخرچ کرتے ہیں ۔