Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
400 - 412
لئے کیاکچھ نہیں کر تے ،یہ اپنے بَدنوں کودوسروں کی دنیاسنوارنے کے لئے تھکاڈالتے ہیں۔لذت وسرورمیں دوسروں کوشامل کرلیتے اورپھر ''کشتی والے ''کی طرح ہوجاتے ہیں۔''سرداروں نے کہا:''کشتی والاکون تھا''؟اوراس کاکیامعاملہ تھا؟''
کشتی بنانے والاکیسے ہلاک ہوا۔۔۔۔۔۔؟
    راہب نے کہا:''مشہورہے کہ کسی شہرمیں ایک بڑھئی رہتاتھا۔وہ روزانہ ایک درہم کماتا،آدھادرہم ا پنے بوڑھے والد، بیوی اوردوبچوں پرخرچ کرتااورآدھاسنبھال کررکھ لیتا۔عرصہ درازتک اسی طرح محنت ومزدوری کرکے وہ اپنے گھرکانظام اَحسن طریقے سے چلاتارہا۔ایک دن اس نے اپنی جمع کردہ رقم شمارکی تووہ سو(100)دینارسے کچھ زائدتھی۔اس نے کہا: ''میں توبہت خسارے میں رہا،اگرمیں کشتی تیارکرکے تجارت کرتاتوآج خوب مال دارہوتا،اب مجھے کشتی بنانی چاہے۔'' لہٰذااس نے اپناارادہ اپنے والد پرظاہرکیاتواس نے کہا:''اے میرے بیٹے!ہرگزیہ کام نہ کرنا،مجھے ایک ستارہ شناس ( ستا ر و ں کاعلم رکھنے والے)نے بتایا تھاکہ تیرایہ بیٹاسمندرمیں غرق ہوکرمرے گااوریہ اس وقت کی بات ہے جب تُو پیدا ہوا تھا۔'' بڑھئی نے کہا :'' کیااس نے یہ بتایا تھاکہ مجھے مال ودولت ملے گا؟''باپ نے کہا:''ہاں!اسی لئے تومیں نے تجھے تجارت سے منع کرکے ایساکام تلاش کیاجس کے ذریعے روزانہ اجرت ملتی رہے۔''بڑھئی نے کہا:''ستارہ شناس کے قول کے مطابق اگرمجھے مال ملے گاتویہ اسی صو رت میں ممکن ہے کہ میں سمندری تجارت کروں۔'' باپ نے کہا:میرے بچے!تُواپنے اس ارادے سے بازآجامجھے خوف ہے کہ تُوہلاک ہو جائے گا۔'' بیٹے نے کہا:'' تجارت کے ذریعے مجھے مال توضرورحاصل ہوگااگرمیں زندہ رہاتوبقیہ عمرخیرسے گزرے گی ،ا گر مر گیا تواپنی اولادکے لئے بہت سی دولت چھوڑ جاؤں گا۔''باپ نے کہا:''میرے بیٹے!اولادکی وجہ سے اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈال۔'' بیٹے نے کہا:''خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں ہرگزاپنی رائے تبدیل نہ کروں گا،میں تجارت ضرورکروں گا ۔ ' ' باپ مجبور ہو کر خاموش ہو گیا ۔بڑھئی نے کشتی تیارکرکے اسے خوب سجایاپھراس میں کئی قسم کاسامانِ تجارت رکھ کرسفرپرروانہ ہوگیا ۔ ایک سال بعدجب واپس آ یا تو اس کے پاس سو(100) قنطارسونے جتنی رقم موجودتھی۔بیٹے کوصحیح سلامت دیکھ کرباپ نے اللہ تعالیٰ کا شکراداکیااوراس کے لائے ہوئے مال کی تعریف کرتے ہوئے کہا:''میں نے نذرمانی تھی کہ اگرمیرابیٹااس سفرسے سلامتی کے ساتھ واپس آگیاتومیں اس کی بنائی ہوئی کشتی کوآگ لگادوں گا۔''بیٹے نے کہا:''اباجان!آپ نے میری ہلاکت اورمیرے گھر کی بربادی کاارادہ کرلیاہے۔''باپ نے کہا:میرے بیٹے !میں نے یہ ارادہ تمہاری زندگی اورتمہارے گھرکی تادیرسلامتی کے لئے کیاہے ۔ معاملات کومیں تجھ سے کہیں زیادہ جانتاہوں۔میں دیکھ رہاہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے وسعت دی ہے اب تجھے چاہے کہ اس کی رضاوالے کام کراوراس کاشکربجالاکہ ا سنے نے تجھے مفلسی سے بچاکرامیرترین شخص بنادیاہے۔اب تُو اس کی
Flag Counter