Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
397 - 412
والے بہت غضبناک وپریشان ہوئے تو اس شخص نے کہا:''ہمیں سانپ سے جو نفع حاصل ہوتاہے وہ بکری کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے، لہٰذاغم کی کوئی بات نہیں ۔''اس طرح معاملہ رفع دفع ہوگیا۔سال کے شروع میں سانپ پھر باہرآیا اوراس کے پا لتو گدھے کوڈس لیا گدھافوراًمرگیا۔ اس شخص نے گھبراتے ہوئے کہا:''میں دیکھ رہاہوں کہ یہ سانپ ہمیں مسلسل نقصا ن پہنچا رہا ہے۔ جب تک یہ نقصان جانوروں تک محدودرہے گامیں صبرکروں گااس کے بعدہرگزصبرنہیں کروں گا۔''پھردوسال تک سا نپ نے انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچائی، تمام گھروالے سانپ سے بہت خوش رہنے لگے اوراس کے معاملے کولوگوں پرپوشیدہ رکھا ۔ پھر ایک دن سانپ اپنے بل سے باہرنکلااوران کے سوتے ہوئے خادم کو ڈَس لیا۔اس بے چارے نے مددکے لئے اپنے مالک کوپکارامالک پہنچالیکن اتنے میں زہرکی وجہ سے غلام کاجسم پھٹ چکاتھا۔اس نے کہا:''میں دیکھ رہاہوں کہ اس سانپ کازہربہت خطرناک ہے ،یہ جسے ڈس لیتاہے اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔اب میں اپنے گھروالوں کے بارے میں اس سے مطمئن نہیں ہوسکتاکہیں ایسانہ ہوکہ یہ ان میں سے کسی کوڈس لے۔اسی سوچ وپریشانی میں کئی دن گزرگئے ۔پھراس نے کہا:''اس سانپ کی وجہ سے مجھے مالی نقصان ہو ر ہا ہے لیکن جوفائدہ اس کے سونے کے انڈوں کی وجہ سے مجھے حاصل ہورہاہے وہ نقصان سے کہیں زیادہ ہے، لہٰذامجھے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔''اس طرح اس لالچی شخص نے اپنے آپ کومطمئن کرلیا۔

    کچھ دنوں بعدسانپ نے اس کے بیٹے کوڈس لیا۔اس نے فوراًطبیب کوبلایالیکن طبیب علاج نہ کرسکااوراس کے بیٹے کی موت واقع ہوگئی ۔اب توماں ،باپ کوبیٹے کی موت کاایساغم ہواکہ سانپ سے پہنچنے والا تمام نفع بھول گئے اورغضبناک ہوکر کہا:''اب اس سانپ میں کوئی بھلائی نہیں، بہتریہی ہے کہ اس موذی کوفوراًقتل کردیاجائے ۔''سانپ نے ان کی یہ باتیں سنیں توکچھ دنوں تک غائب رہااس طرح انہیں سونے کاانڈہ نہ مل سکا۔ جب زیادہ عرصہ ہوگیاتو انڈہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کی لالچی طبیعت میں بے چینی ہونے لگی۔ چنانچہ وہ اوراس کی بیوی ،سانپ کے بل کے پاس آئے،وہاں دھو نی دی،خوشبومہکائی اوراس طرح پکارنے لگے:''اے سانپ تُودوبارہ ہمارے پاس آجا!ہم نہ توتجھے ماریں گے اورنہ ہی کسی قسم کا نقصا ن پہنچائیں گے ،جلدی سے ہمارے پاس آجا۔''سانپ نے یہ سناتوواپس آگیا اوران کی خو شیاں پھر لوٹ آئیں۔ وہ اپنے بیٹے اورغلام کی موت کوبھول گئے اورایسے رہنے لگے گویا اس موذی جانورسے کوئی نقصان پہنچاہی نہ ہو۔پھرایک دن سانپ نے سوتے ہوئے اس کی زوجہ کو ڈس لیاوہ شدتِ دردسے چیخنے لگی اور تڑپ تڑپ کرہلاک ہوگئی ۔اب وہ لالچی شخص اکیلارہ گیا،نہ اولادرہی اور نہ ہی بیوی ۔بالآخراس نے سانپ والامعاملہ اپنے بھا ئیوں اوردوستوں کے سامنے ظاہرکرہی دیا۔سب نے یہی مشورہ دیاکہ'' اس موذی سانپ کوجلدازجلدقتل کردے،تو نے اسے قتل کرنے کے معاملہ میں بڑی بے احتیاطی بَرتی اس کادھوکہ اوربرائی تیرے سامنے کب کی ظاہرہوچکی تھی ،تُونے خوداپنے آپ کوہلاکت میں ڈ ا لاہے ۔بہتریہی ہے کہ جتناجلدی ہوسکے اسے قتل کردے۔''