Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
396 - 412
اوردیگرسوگھنے والی چیزوں کو چا ہتے ہیں ۔ بقیہ تین دروازوں کے بارے میں غورکیاتوگلاکی مشقت سب سے زیادہ ہلکی محسوس ہوئی کیونکہ یہ جسم کا ایسا راستہ ہے جس کے ذریعے سے غذاپیٹ تک پہنچتی ہے۔ اورجب پیٹ کابرتن بھرجاتاہے تویہ دروازہ برابرہوجاتاہے۔ لہٰذامیں نے نفسانی خواہشات والے کھانوں کوترک کردیااور صرف ایسی غذاپیٹ کے برتن میں ڈالی جس سے جسم سلامت رہ سکے ۔پھرمیں نے شرمگاہ کی مصیبت کے بارے میں غورکیاتویہ بات واضح ہوئی کہ شرمگاہ اورآنکھوں کاتعلق دل سے ہے اورآنکھوں کادروازہ شہوت کا ساقی ہے اوریہ دونوں جسم کی ہلاکت کابڑاسبب ہیں۔ لہٰذامیں نے پختہ ارادہ کرلیاکہ میں ان دونوں مصیبتوں کواپنے سے دورکردوں گا۔کیونکہ ان کوچھوڑدینامیرے نزدیک اپنے جسم کوہلاکت میں ڈالنے سے آسان ہے۔ خوب غوروخوض کے بعدیہی بات سامنے آئی کہ ان مصیبتوں سے چھٹکاراپانے کاسب سے بہترین حل لوگوں سے دوری اختیار کرنا ہے ۔ پھرمیں نے دنیاوالوں کوچھوڑااوراس مقام پرعبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مشغول ہوگیا،اس طرح مجھے گناہوں کی مصیبت سے نجات مل گئی۔پھرمیں نے اپنے اندرچارلذَّتیں محسوس کیں تو چار اچھی خصلتوں سے انہیں دفع کر دیا۔''

     پوچھا:''وہ لذ تیں کون سی ہیں؟اور وہ خصلتیں کیاہیں؟''راہب نے کہا:''لذتیں تو یہ ہیں (۱)۔۔۔۔۔۔مال کی لذ ت، (۲)۔۔۔۔۔۔اولادکی لذت،(۳)۔۔۔۔۔۔بیویوں کی لذت اور(۴)۔۔۔۔۔۔سلطنت کی لذت۔ اور چارخصلتیں یہ ہیں(۱) ۔۔۔۔۔۔فکر (۲)۔۔۔۔۔۔غم (۳) ۔۔۔۔۔۔خو ف اور(۴)۔۔۔۔۔۔اس موت کا ذکرجولذتوں کو ختم کرنی والی ہے۔حقیقت تویہ ہے کہ کسی بھی لذت میں کوئی خیر نہیں اور موت ہرلذت کوختم کردے گی ا ورکون ساگھرایساہے جواس مصیبتوں کے گھرسے زیادہ بُرااورشرانگیزہوگا؟سنو!تم لوگ اس شخص کی طرح ہوجاؤ جو اپنے شہرسے رزق کی تلاش میں نکلا توپیچھے سے دشمنوں نے اس شہرپرحملہ کردیا،وہاں کے مکینو ں کوسخت اِیذائیں پہنچائیں اور تمام مال واسباب پرقبضہ کرلیا۔لیکن وہ شخص پہلے ہی اپنے شہرسے چلاگیااوراس طرح تکلیفوں اور مصیبتوں سے محفوظ رہا۔ سنو!مجھے اہلِ دنیا پربہت زیادہ تعجب ہوتاہے کہ وہ غم،پریشانی اورتکلیفوں کے ہوتے ہوئے لذات سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں؟تعجب اورشدیدتعجب ہے ان عقل مندوں پرجواپنے جسموں کی سلامتی نہیں چاہتے ۔ایسالگتاہے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح ہلاک کرنا چاہتے ہیں جیسے '' سانپ والے''نے اپنے آپ کوہلاک کیا۔'' پوچھا:''وہ ''سانپ والا''کون تھا ؟ ذرا تفصیل سے بتائیے!
سونے کاانڈہ دینے والاسانپ
     راہب نے کہامنقول ہے کہ:'' ایک شخص کے گھرمیں ایک سانپ رہتاتھا،سب گھروالوں کواس کامسکن(رہنے کا مقا م ) بھی معلوم تھا۔ سانپ روزانہ سونے کاایک انڈہ دیتاجس کاوزن ایک مثقال ہوتا۔صاحب ِمکان روزانہ اس کے بِل سے سونے کا انڈہ لے آتا۔اس نے گھروالوں کوبتادیاکہ وہ اس معاملہ کو پوشیدہ رکھیں ۔ کئی ماہ یہ سلسلہ چلتا رہاحاصل کرتارہا۔ایک دن سانپ اپنے بِل سے نکلااوراس کی بکری کوڈَس لیا ۔سانپ کازہرایساجان لیواتھاکہ فوراًبکری کی موت واقع ہوگئی۔ سب گھر
Flag Counter